ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 97 کی عبارت سے عمل کا اجر بڑھتا ہے لیکن اگر ان وساوس کی وجہ فساد ہی معلوم کرنے کا شوق ہو تو مجملا اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ ( 1 ) مقصود اعمال صالحہ سے راحت دنیا نہیں ہے بلکہ راحت آخرت ہے اور اس کا مدار جو فضل و رحمت ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ اعمال کو دخل نہیں بلکہ یہ معنی ہیں کہ ملے گا تو عمل ہی سے لیکن جتنا ملے گا اتنا اثر اعمال میں نہیں وہ فضل و رحمت کا اثر ہے لیکن جو عمل ہی نہ کرے گا وہ قانونا اس فضل و رحمت سے بھی محروم رہے گا ۔ باقی طبیعت کا لگنا یہ شرط قبول نہیں ہے اگر دوا پینے میں طبیعت نہ لگے تب بھی اس کی خاصیت یعنی صحت مرتب ہو گی ۔ ( 2 ) دعا قبول ضرور ہوتی ہے مگر اس کے قبول ہونے کی وہ حقیقت ہے جو مریض کی اس درخواست کی منظوری کی حقیقت ہے کہ کبھی طبیب سے درخواست کرے کہ میرا علاج مسہل سے کر دیجئے اور فورا علاج کر دے مگر مسہل اس کی حالت کے مناسب نہ تھا اس لئے دوسرے طریقہ سے علاج شروع کر دیا اس کو کوئی یوں نہیں کہہ سکتا کہ طبیب نے جب مسہل نہیں دیا تو مریض کی درخواست کو منظور نہیں کیا ۔ اسی طرح اصل مطلوب دعاء سے حق تعالی کی توجہ خاص ہے اور عبد نے جو طریق معین اختیار کیا ہے یہ بھی مقصود نہیں ہے بلکہ مقصود کا محض ایک طریق ہے جیسے اس مقصود کے اور بھی طریق ہیں لہذا وہ جس طریق سے توجہ خاص فرماویں وہ اجابت دعاء ہی ہے یہ تو طاعات و حاجات میں کلام ہے باقی معاصی کا ارتکاب جو موصل الی النار ہو وہ ایسا ہے جیسے مریض کو بد پرہیزی سے لذت ملتی ہے اور اس کے صبر کرنے میں لذت فوت ہو جاتی ہے ۔ لیکن جو شخص جانتا ہے کہ لذت مقصود نہیں صحت مطلوب ہے وہ صبر کرے گا اسی طرح جس شخص کو نجات آخرت مقصود ہے وہ راحت دنیا کو مقصود نہ سمجھے گا ۔ رہی سزا گناہ کی کسی کو یہاں ملتی ہے کسی کو وہاں تجویذ مناسب بلکہ واجب یہی ہے کہ طاعات میں حتی الامکان مشغول ہوں ۔ معاصی سے مجتنب رہیں اور مقصود صرف رضائے حق کو سمجھیں خواہ اس کا ظہور ہو یا وہاں اور ایسی حالت میں روزگار کا وظیفہ پڑھنا وساوس میں اضافہ کرنا ہے ۔ وساوس مخل صدق واخلاص نہیں ہیں تحقیق ۔ وساوس مخل نہیں اخلاص میں اول تو وہ غیر اختیاری دوسرے نماز سے وہ مقصود نہیں پس وساوس اخلاص کے خلاف نہیں البتہ اگر قصدا وساوس لائے جائیں تو صدق کے خلاف ہیں مگر جب بلا قصد ہوں تو خلاف صدق بھی نہیں ۔ وساوس میں پڑ کر قطع تحریمہ حرام ہے ۔ تحقیق ۔ وساوس میں پڑ کر اور مضطر ہو کر قطع تحریمہ حرام ہے ۔ یاد رکھو نیت فعل اختیاری ہے ۔