ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 96 کی عبارت وساوس کا انقطاع کلی مطلوب نہیں تحقیق ۔ خیالات کا نقطاع کلی مطلوب نہیں ہاں منتہی کو ایسے خیالات آتے ہیں جیسے بہتے دریا میں تنکے اور بلبلے ہوتے ہیں کہ ادھر آیا اور ادھر گیا ۔ ادھر اٹھا ادھر بجھا وہ جمنے نہیں پاتے وساوس اور خطرات تو بلا قصد مرتے دم تک بھی آویں تو خوف کی چیز نہیں کیونکہ حدیث میں ہے ۔ ان اللہ تجاوز عن امتی حدثت بہ انفسھا ۔ دفع وسوسات کے اعتدال کا طریقہ تحقیق ۔ دفعہ وسوسات میں کوشش مبالغہ کے ساتھ نہ کریں اور اعتدال رکھیں ۔ لیکن اعتدال ہر شخص کا جدا ہے جس میں تعب زیادہ ہو یا اصلی مقصود میں خلل نہ پڑنے لگے وہ اس شخص کا اعتدال نہیں اس سے بھی خفیف اور سرسری کوشش کریں ۔ اہتمام دفع وساوس کی ایک عجیب مثال اور اس مضرت کا علاج مع الدلیل تحقیق ۔ وساوس کا علاج یہ ہی ہے کہ ان کے دفع کا اہتمام اور قصد کرو ۔ کیونکہ یہ تجلی کا تار ہے دفع کے قصد سے بھی ہاتھ لگاؤ گے تو چمٹ جائے گا ۔ بلکہ اس کا علاج یہ ہے کہ اپنی توجہ کو دوسری طرف مشغول کرو ۔ ذکر اللہ میں لگ جاؤ دوسرا جزو یہ ہے کہ وسوسہ کی طرف التفات نہ کرے ۔ قصدا ادھر توجہ نہ کرے چنانچہ حدیث میں آیا ہے فلیستعذ باللہ ثم لینتہ اول جزو کا ارشارہ تعوذ باللہ میں اور دوسرےجزو کا لینۃ میں ہے ۔ وساوس مختلفہ کا علاج کلی اور اس کے توضیحات حال ۔ ( 1 ) یہ وسوسہ ہوتا ہے کہ راحت دنیا کا مدار اعمال صالحہ نہیں ہیں آخرت کی راحت بھی فضل پر موقوف ہے ۔ ( 2 ) دعا مانگنے کو طبیعت نہیں چاہتی جس کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اتنی مدت ہو گئی کوئی قبول بھی ہوئی پس جو اللہ تعالی چاہیں گے وہی ہو گا ۔ ( 3 ) روزگار کی قلت کا اثر جیسا عام دنیا پر ہے ویسا ہی یا اس سے کسی قدر زائد مجھ پر ہے خیال یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی راحت مال سے ہے ۔ مال کی طلب جائز یا نا جائز طریقہ سے جس طرح ہو سکے کرنی چاہئے وظائف میں وقت دینے سے اور اس پر صبر کرنے سے دنیا کی راحت و آسانی ہرگز حاصل نہ ہو گی ۔ تحقیق ۔ علاج کلی اور مفید تو یہی ہے کہ ان وساوس کو اعتقادا برا سمجھا جائے اور ان کے مقتضا پر عمل نہ کیا جائے یہ از خود دفع ہو جائیں گے ۔ اور اگر دفع بھی نہ ہوں تو مضر نہیں بلکہ یہ ایک گو نا مجاہدہ جس