ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 95 کی عبارت وسوسہ کا فی الذات قبیح ہونا اور اس کا علاج تحقیق وسوسہ اور اس کا لازم کہ غفلت ہے جب غیر اختیاری ہو ۔ بایں معنی گناہ نہیں کہ اس پر مواخذہ نہیں لیکن اپنی ذات میں نقص اور قبیح ضرور ہے اور استغفار جیسا رافع ذنب ہے ایسے ہی جابر نقص بھی ہے اور اسی وجہ سے حضور اقدسؐ غین کے بعد جو آپ کے مذاق میں کمال سے متنزل تھا ۔ استغفار فرماتے تھے ۔ ( غین سے مراد وہ گرانی ہے جو توجہ الی الخلق میں آپ پر ہوتی تھی کیونکہ آپ کا طبعی تقاضا توجہ بلا واسطہ کا تھا توجہ بواسطہ طبعا گراں تھی ۔ وسوسہ لا ادریہ کا علاج حال ۔ ایک شخص کے وساوس اس شان کے تھے جیسا لا ادریہ کی حالت ہے کہ شاک و شاک فی انہ شاکتحقیق ۔ مجھ کو اس بات میں بحمد للہ اتنا کافی تجربہ ہے شائد کسی کو ہو اس تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ یہ سب وسوسے ہیں اور اس کے وسوسے ہونے نہ ہونے میں جو شک پیدا ہوتا ہے وہ بھی وسوسہ ہے اگر میرے صاحب تجربہ ہونے میں شبہ پیدا ہو وہ بھی وسوسہ ہے بالکل پرواہ نہ کی جائے میری تقلید کی جائے اس میں طریق تقلید ہی ہے تحقیق مضر ہے یعنی تکلف دہ ہے ۔ مگر گناہ اس میں بھی نہیں ۔وسوسہ عدم محبت الہی کی تحقیق حال ۔ مجھے آپ سے اور بزرگان دین سے محبت ہے لیکن خدا سے نہیں یہ کیا بات ہے ۔ تحقیق ۔ اگر اللہ کی محبت نہ ہوتی تو اس کی فکر ہی کیوں ہوتی کہ اللہ کی محبت ہونا چاہئے یہ خود محبت ہی کا ثمرہ ہے ۔ رہا یہ کہ جب محبت ہے تو پھر ہوتی ہوئی کیوں نہیں معلوم ہوتی بات یہ ہے کہ رنگ محبت کے مختلف ہیں تم خاص رنگ کو محبت سمجھے ہوئے ہو حالانکہ دوسرے رنگ سے ہے دوسرے یہ کہ اللہ والوں کی محبت کیوں ہوتی اگر اللہ کی نہ ہوتی ۔ وسوسہ زنا مضر نہیں تحقیق ۔ قلب کی تمنا و اشتہار پر بھی مواخذہ ہے مگر وہی جو بقصد ہو اور بلا قصد ہو تو وسوسہ زنا کیا کفر و شرک کے وساوس بھی مضر نہیں ۔