ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 93 کی عبارت تحقیق ۔ یہ آمیزش غیر اختیاری ہے ۔ اس لئے مضر نہیں ۔ بس اس کے اہتمام کی بھی ضرورت نہیں بلکہ اپنے اثر کے اعتبار سے کہ شکستگی ہے معین فی المقصود ہے اس لئے نافع ہے کچھ فکر نہ کیجئے ۔ خیالات اضطراریہ توجہ کامل کے منافی نہیں تحقیق ۔ خالات اضطراریہ توجہ کامل کے منافی نہیں ۔ البتہ دوہ وساوس و خیالات جو اختیاری ہوں منافی ہیں ۔ اب اگر وہ وساوس اختیاریہ مباحات کے درجہ میں ہیں تو ان سے گناہ تو نہ ہو گا تو البتہ ذکر ناقص ہو گا ۔ اگر تصورات محرمہ ہیں تو ان سے گناہ بھی ہو گا چنانچہ نص میں وارد ہو ۔ واللہ یعلم خائنۃ الا عین وما تخفی الصدور اور ان تبدوا مافی انفسکم اوتخفوہ یحاسبکم بہ اللہ مراد اختیاری خیالات ہیں کیونکہ ابداء اخفا افعال اختیاریہ ہیں ۔ وساوس کے وقت محققین کا دستورالعمل تحقیق ۔ وساوس آنے کے وقت محققین تو یہ کہتے ہیں ۔ الحمد اللہ الذی رد کیدہ الی الوسوسۃ کہ خدا کا شکر ہے کہ دشمن کی سب چالیں ختم ہو کر الوسوسہ ہی پر رہ گئی ۔ وہ ان وساوس سے نہیں گھبراتے بلکہ شیطان سے کہتے ہیں کہ آج جتنے وسوسے تو ڈال سکے ڈال دے میرا کچھ ضرر نہیں ۔ وساوس کا سہل و مجرب علاج تحقیق ۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ وسوسوں سے خوش ہونا چاہئے تا کہ شیطان تمہاری خوشی دیکھ کر بھاگ جائے کیونکہ اس کو مسلمان کی خوشی گوارا نہیں وہ تو رنج دینے کے لئے وسوسہ ڈالتا ہے پھر جب دیکھے گا کہ اس کو الٹی خوشی ہے بھاگ جائے گا لیکن یہاں پر ایک بات قابل یاد رکھنے کے ہے وساوس پر اس نیت سے خوش نہ ہو کہ اس خوشی سے وساوس دفع ہو جائیں گے کیونکہ شیطان ان نکتوں کو سمجھتا ہے ۔ جب وہ دیکھے گا کہ یہ دفع وساوس کے لئے تدبیر کر رہا ہے تو وہ کبھی نہ بھاگے گا ۔ بس اس کا سہل نسخہ یہی ہے کہ ان کی پرواہ ہی نہ کرے اور دفع کی نیت نہ کرے دفع وسوسہ کا قصد کرنے سے اس کی طرف اورتوجہ بڑھے گی ۔ گھٹے گی نہیں ۔ پھر جب شیطان اس کو وسوسہ کی طرف متوجہ پائے گا تو اور زیادہ وسوسہ ڈالے گا بلکہ جب وسوسہ آئے اس وقت مقصود کی طرف توجہ کی تجدید کرے ۔ نفس سے فراغت کا قصد بیکار ہے تحقیق معاصی کے ارتکاب اور اوامر سے اجتناب کے متعلق جو وسوسات نفس و شیطان ڈالا کرتے ہیں ۔ ان کا علاج یہی ہے کہ ان وسوسات کے مقتضیات پر ہرگز عمل نہ کیا جائے اور اپنے نفس کی