ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 92 کی عبارت نہ لاوے بلکہ مقصود بالذات سمجھے خواہ اندفاع وساوس پر مترتب ہو یا نہ ہو اسی ۔ طرح راحت کو مقصود بالذات نہ سمجھا جائے بلکہ اس پر آمادہ رہنا چاہیے کہ اگر تمام عمر اس سے بھی زیادہ کلفت ہو تو وہ محبوب کا عطیہ ہے ۔ لانہ لیس بمعصیۃ ولا اختیاری و کل ھو کذالک فھو نعمتہ اور عبدیت یہی ہے بدرد و صاف ترا حکم نیست دم ورکش کہ آنچہ ساقی ماریخت عین الطافت اس شعر کو کبھی کبھی پڑھ لیا کریں ۔ صاحب ذکاوت مفرط کو یکسوئی حاصل نہیں ہوتی تحقیق ۔ عاقلوں کو خاص کر صاحب ذکاوت مفرط کو یکسوئی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ اس کا دماغ ہر وقت حرکت فکریہ میں رہتا ہے ۔ اس لئے اس کو کیفیات حاصل نہیں ہوتی ۔ ایک عجیب مثال وسوسہ کی تحقیق ۔ شیطان کی مثال تار بجلی جیسی ہے اس کو ہاتھ ہی نہ لگاؤ نہ جلب کے لئے نہ دفع کے لئے ورنہ تم کو لپٹ جائے گا ۔ بلکہ اس کو منہ بھی نہ لگاؤ ۔ اس کی طرف التفات بھی نہ کرو یہی علاج ہے وساوس کا جو منجانب شیطان ہے ۔ وسوسہ کے آمد و آ ورد کے شبہ کا جواب حال ۔ بعض دفعہ یہ نہیں سمجھ سکتا کہ وسوسہ خود آتا ہے یا میں لاتا ہوں ۔ معیار بتلایا جائے ۔ تحقیق ۔ معیار کی حاجت نہیں جب آمد اور آورد میں شک ہے اور ادنی درجہ یقینی ہے تو الیقین لا یزول بالشک اس کو آمد ہی سمجھنا چاہئے ۔ وسوسہ پر عمل نہ کرنا باطنی مجاہدہ ہے تحقیق ۔ خیال آنا مضر نہیں اس پر عمل نہ کیا جائے بلکہ خیال آنے پر عمل نہ کرنا یہ ایک مجاہدہ ہے جو باطن کو بے حد نافع ۔ ذکر و تنہائی میں بی بی کا خیال مضر باطن نہیں حال ۔ تنہائی میں بیٹھے ہی سے بی بی کی باتیں یاد آ جاتی ہیں اور ذکر میں بھی بی بی کے درد فراق کی آمیزش پاتا ہوں کوئی تدبیر ارشاد فرما دیں کہ ذکر محمود کے ساتھ ذکر دنیا کی آمیزش نہ ہو ۔