ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 90 کی عبارت سکے گا نہ غصہ بیجا نہ گناہ صغیرہ نہ کبیرہ ۔ ایک وقت موت کے مراقبہ کا رکھو ارشاد ۔ ایک وقت موت کے سوچنے حالات قبر کے سوچنے اور قیامت کے سوچنے کے لئے مقرر کرو ۔ اور باقی اوقات میں ذکر اللہ میں مشغول رہو ۔ اسی فکر کا نام مراقبہ ہے ۔ مراقبہ سفر آخرت برائے زوال رضا بالدنیا و اطمینان بہا ارشاد ۔ خدا کا راستہ طویل ہے اور ہم اس پر چل رہے ہیں تو ہم ہر وقت سفر میں ہوئے ۔ اے صاحب جس کو ہر وقت سفر در پیش ہو ۔ وہ کیونکر مطمئن ہو کر بیٹھ سکتا ہے اور جس کے سامنے اتنا لمبا سفر ہو وہ کیونکر دل کھول کر ہنس سکتا ہے اسی لئے حدیث میں رسول اللہؐ کی سیرت اسی باب میں اس طرح بیان کی گئی ہے کان دائم الفکرۃ متواصلا لاحزان کہ آپ ہمیشہ فکر و سوچ اور رنج و غم میں رہتے تھے اور اسی فکر و غم کا یہ اثر تھا کہ آپ کبھی کھل کر ہنستے نہ تھے ۔ چنانچہ حدیث میں ہے ۔ جل ضحکہ التبسم کہ آپ کا بڑا ہنسنا یہ ہوتا تھا کہ تبسم فرما لیتے تھے ۔ اور وہ بھی ہماری خاطر سے تا کہ لوگوں کا کلیجہ پھٹ نہ جائے اور وہ یوں نہ کہیں کہ جب حضورؐ ہر وقت غمگین رہتے ہیں تو ہمارا کہاں ٹھکانہ ہے لوگ اس سے مایوس ہو جاتے ۔ پس انسان کو چاہئے کہ یہ تصور پیش نظر رکھے کہ میں ہر وقت سفر میں ہوں ۔ جس کے لوازم میں سے ہے بے چینی اور عدم اطمینان کیونکہ مسافر کو منزل پر پہنچنے سے پہلے اطمینان نہیں ہوا کرتا بلکہ مسافر کیلئے غیر منزل کے ساتھ اطمینان اور رضا موانع سفر سے ہے ۔ جو مسافر غیر منزل سے دل لگا لے گا اور اسی میں قیام کر کے بے فکر ہو جائے گا یقینا منزل پر نہ پہنچ سکے گا ۔ مراقبہ عظمت حق و قدرت حق ارشاد ۔ جس پر عظمت حق و قدرت حق کا انکشاف ہو گیا ہے ان کو باوجود مغفرت ذنوب کے بھی جہنم سے ۔ اطمینان نہیں ۔ اسی لئے رسول اللہؐ فرماتے ہیں لو علمتم ما اعلم الضحکتم قلیلا و لبیکتم کثیرا یعنی اگر تم وہ باتیں جانتے جو مجھے معلوم ہیں تو بہت کم ہنستے اور زیادہ رویا کرتے اس جگہ کم ہنسنے کے یہ معنی ہیں کہ بالکل نہ ہنستے جیسا اردو میں آپ کہا کرتے ہیں کہ میں ایسا روگ کم پالتا ہوں ( یعنی نہیں پالتا )