ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 89 کی عبارت ہے ۔ اس کا ختیار کرنا اس تصرف کو تسلیم کرنا ہے اور یہی تفویض ہے انشاء اللہ یہ نسخہ تمام جسد و روح کی اصلاح کے لئے کافی ہو گا ۔ فخذوہ و کلوہ ھنیا مریئا واللہ الشافعی الکافی مراقبہ ارض کا حاصل ارشاد ۔ ہماری اصل تو خاک ہے لہذا ہم کو خاک بن کر رہنا چاہئے ۔ مٹی ہو کر تکبر کرنا نہایت ہی نازیبا ہے پھر آخر میں بھی ہم مٹی ہی میں ملنے والے ہیں ۔ یہ جسم سب خاک خوردہ ہو جائے گا اور ایک دن ہم کو زمین کے اوپر سے اس کے اندر پہنچ جائیں گے تو اس کے لئے ہم کو ایسے اعمال کرنا چاہئے جو اس وقت کارآمد ہوں ۔ اس مراقبہ کو اصلاح حال میں بہت ہی تاثیر ہے ۔ سفر آخرت کا مراقبہ سفر دنیویہ سے ارشاد ۔ جس طرح اسفار دنیویہ میں موانع سفر سے کوسوں دور بھاگتے ہیں ۔ اتفاقیہ نقصان پر طبیعتوں میں آثار غم پاتے ہیں ۔ اور جو امور معین ہوتے ہیں ان کی طرف رغبت کرتے ہیں ۔ اسی طرح ہم کو چاہئے کہ اپنی ہر ہر نقل و حرکت کو تنقیدی نظر سے دیکھیں کہ آیا یہ ہمارے سفر آخرت کے واسطے عائق ہے یا معین ۔ اگر کوئی حالت یا فعل ہمارا مانع سفر ہے تو اس سے احتراز کریں اور جو امور اس سفر میں ہمیں معین ہیں رغبت کے ساتھ بطیب خاطر اختیار کریں ۔ یہ خیال رکھیں کہ کہیں کوئی خار راہ ہمارے اس شاہراہ پر رونما نہ ہو ۔ خود داری کا علاج ارشاد ۔ اپنے عیوب اور اپنا ہیچ ہونا اور فنا ہو جانا سوچا کرے یہ ہے علاج خود داری کا ۔ ہر شے کے واسطہ وصول ہو جانے کا مراقبہ ارشاد ۔ اگر اس طرح مراقبہ کرو کہ یہ سارے حواث ( یعنی موجودات ۔ زمین و آسمان ۔ چاند و سورج ۔ ستارے ۔ پہاڑ وغیرہ ) موصل الی المحدیث ( الخائق ) اور یہ سارے مصنوعات مراۃ جمال صانع ہیں تو اس حیثیت سے تمام عالم میں کوئی شے غیر نہیں کیونکہ ہر شے واسطہ وصول ہے قال شیخ الشیرازی برگ درختاں سبز در نظر ہوشیار ہر ورقے دفتریست معرفت کردگار مراقبہ رویۃ اللہ کا نفع ارشاد ۔ جو شخص ہر وقت اس بات کو پیش نظر رکھے گا کہ حق تعالی مجھ کو دیکھ رہے ہیں وہ تکبر نہ کر