ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 88 کی عبارت محبوب حقیقی ہی کو حق ہے تصرف اور تجویذ کا اور وہ جو تصرف اور تجویذ فرماتے ہیں سب خیر محض ہے گو اس وقت ہماری سمجھ میں نہ آئے بعد میں آ بھی جاتا ہے البتہ جن اعمال کا ہم کو امر فرمایا ہے وہ خود ان کا تصرف ہے اس کا اہتمام یہ اپنا تصرف نہیں ان ہی کے تصرف کو تسلیم کرنا ہے اور اس کے ساتھ اس یقین کا تازہ اور قوی کرنا کہ اگر ان کے کسی تصرف سے جس کا بندہ کو تحمل نہ ہو سکے صحت برباد ہو جائے بلکہ جان بھی ختم ہو جائے تو ایسا تصرف سب سے بڑی رحمت ہے ۔ عاشقاں جام فرخ انگہ کشند کہ بدست خویش خوباں شان کشند ہمچو اسمعیل پیشش سر بنہ شادو خنداں پیش تیغش جان بدہ تا بماند جانت خنداں تا ابد ہمچو جان پاک احمد یا احد آں کسے را کش چنیں شا ہے کشد سوئے تخت و بہترین جائے کشد نیم جاں بستاندہ صدو جان دہد آنچہ در و ہمت نیا بد آں دہد گرندیدے سود اور در قہر او کے شدے آں لطف مطلق قہر جو طفل می لرزد زینش احتجام ما در مشفق دراں غم شاد کام نیز یہ بھی پیش نظر رکھا جائے ۔زاں بلاہا کانبیا پرداشتند سز پحرخ ہفتمیں افراشتند نیز اس کو بھی ملاحظہ کیا جائے تو بیک زخمے گریزانی ز عشق تو بجز نامے چہ میدانی زعشق در بہر زخمے تو پر کینہ شوی پس کجا صیقل چو آئینہ شوی اور اپنے لئے یہ مذہب اختیار کیا جاوے ۔ چیست تعظیم خدا افراشتن خویشتن را خاک و خارے داشتن چیست توحید خدا افراشتن خویشتن را پیش واحد سوختن گرہمی خواہی کہ بفروزی چو روز ہستی ہمچوں شب خورا بسوز اور ان مراقبات تفویصہ ۔ توحیدیہ ۔ عشقیہ ۔ عبدیہ کی تعدیل کے لئے کہ بعض اوقات ان مراقبات سے دعوی و عجب واستغناء کا خطرہ بھی ہوتا ہے ۔ عمل دعاء والتجاء و ابتہال کا التزام بھی بلکہ ان مراقبات سے زیادہ رکھا جائے ۔ کہ یہ بھی تفویض کا ایک شعبہ ہے ۔ ( جیسا اوپر اعمال مامور بہا کے اہتمام میں اس کی تقریر گذری ہے ) اعمال کی طرح دعاء بھی ماموربہ ہے یہ امر ( دعاء ) عبد کو عبد میں ایک تصرف