ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 86 کی عبارت دعا بھی اعلی تدبیر ہے اور اس کی خاصیت ارشاد ۔ صاحبو دعا بڑی چیز ہے دعا میں خاصیت ہے کہ اس سے تدبیر ضعیف بھی قوی ہو جاتی ہے کم از کم دعا سے یہ فائدہ تو ضرور ہوتا ہے کہ دل میں قوت پیدا ہو جاتی ہے اور قلب کو راحت و سکون ہو جاتا ہے اور یہ بھی تو مطلوب ہے کیونکہ دنیا کی تمام تدابیر سے راحت قلب ہی تو مقصود ہے ۔ دعا کا ایک نفع ارشاد ۔ دعا میں ایک نفع یہ ہے کہ یہ حق تعالی کے یہاں معذور سمجھا جائے گا کیونکہ جب اس سے سوال ہو گا کہ تم نے حق کا اتباع کیوں نہیں کیا یہ کہہ دے گا کہ میں نے طلب حق کے لئے بہت سعی کی اور اللہ تعالی تو ایک ہی تھے ۔ میں نے ان سے بھی عرض کر دیا تھا کہ مجھ پر حق واضح کر دیا جائے ۔ دعا بھی ذکر ہی ہے فاجر کے حقوق سے بریت کی دعا ۔ ارشاد ۔ دعا بھی ذکر کی ایک فرد ہے ۔ ارشاد ۔ اللھم لا تجعل لفاجر عندی نعمۃ اکا فیہ بھا فی الدنیا والآخرہ اس میں نعمت سے مراد حق ہے یعنی میرے ذمہ اس کا کوئی حق نہ رہ جائے ۔ استجابت کے معنی سوال ۔ ادعیہ تعوذ میں دعوۃ لا یستجاب بھا وارد ہے سو تعوذ تو امر مذموم و مضر سے ہوا کرتا ہے ۔ حالانکہ دعا خواہ مستجاب ہو یا نہ ہو اس کی حکمت تذلل و افتقار جو بہر حال مطلوب و محمود ہے حاصل ہو ہی جاتی ہے پھر تعوذ کیا معنی ۔ ارشاد ۔ یہ شبہ پیدا ہوا ہے استجابت کے معنی نہ جاننے سے سو استجابت خاص اسی حاجت کو پورا ہونا نہیں ہے ۔ بلکہ توجہ الی الحق الی العبد برحمتہ خاصۃ اس کی حقیقت ہے ۔ پس عدم استجابت اس کا عدم ہے اور وہ قابل تعوذ ہے ۔ آئین کا حکم ارشاد ۔ آئین تو دعا ہے اور دعاء کا خاص لب و لہجہ عاجزی و نیاز مندی کا ہونا چاہئے ۔