ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 85 کی عبارت تعلق پیدا ہو جاتا ہے ۔ جس وقت آدمی دعاء کرتا ہے اس وقت غور کر کے ہر شخص دیکھ لے کہ اس کو اللہ تعالی سے خاص تعلق محسوس ہو گا ۔ پس دعاء کے بعد اگر مطلوب بعینہ حاصل نہ ہو تو یہ بات تو اسی وقت حاصل ہو جائے گی کہ دل میں قوت اور اطمینان حاصل ہو گا ۔ اور یہ برکت اس کی ہے کہ دعاء سے اللہ تعالی کے ساتھ بندہ کو تعلق ہو جاتا ہے ۔ اور عشاق کو ہر دعاء سے صرف تعلق مع اللہ مطلوب ہے ۔ از دعائے نبود مراد عاشقاں جز سخن گفتن بآں شیریں وہاں اسی لئے عشاق کو دعا قبول ہونے یا نہ ہونے پر کبھی التفات نہیں ہوتا پس حق تعالی سے خاص تعلق پیدا کرنے کا سہل طریقہ دعاء ہے بغیر اس کے خاص تعلق نہیں ہوتا ۔ بلکہ صرف ہوائی تعلق ہوتا ہے دعا کی کوتاہی کا عملی علاج ارشاد ۔ دعاء کی کوتاہی کا عملی علاج یہ ہے کہ ہر ہر حاجت میں ( خواہ گھر میں نمک ہی نہ ختم ہو گیا ہو یا جوتے کا تسمہ ہی نہ شکست ہو گیا ہو ) دعا کریں اور اس کے ساتھ تدبیر بھی کرو ۔ کیونکہ تدبیر شاہد ہے اور شاہد سے تسلی زیادہ ہوتی ہے ۔ دعا کا درجہ ارشاد ۔ اور دعا کو تدبیر کہنا تو برائے ظاہر ہے ۔ ورنہ حقیقت میں اس کا درجہ تدبیر سے آگے ہے دعا کو تقدیر سے زیادہ قرب ہے کیونکہ اس میں اس ذات سے درخواست ہے جس کے قبضہ میں تقدیر ہے ۔ معمولی چیز بھی خدا ہی سے مانگو ۔ ارشاد ۔ معمولی چیز بھی خدا ہی سے مانگو اور یہ نہ سمجھو کہ چھوٹی چیز مانگنے سے حق تعالی نا خوش ہونگے ۔ کیونکہ حق تعالی کے نزدیک ہر بڑی چیز چھوٹی ہی ہے ان کے نزدیک عرش اور نمک کی ڈلی برابر ۔ دعا کا حسی اثر ارشاد ۔ دعا سے یہ اثر ہر شخص کو فورا محسوس ہو گا کہ پریشانی رفع ہو جائے گی اور باطنی نفع یہ محسوس ہو گا کہ حق تعالی سے قرب خاص مشاہدہ ہو گا ۔ اللہ تعالی سے جی لگے گا ۔ اللہ تعالی کی یاد سے وحشت نہ ہو گی ۔ اللہ تعالی سے بعد نہ ہو گا ۔