ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 84 کی عبارت دعا کا امتیاز دوسرے عبادات سے ارشاد ۔ دعا میں ایک امتیاز یہ ہے کہ دین و دنیا دونوں منافع کو جامع ہے یعنی تدابیر دنیا میں سے یہ بھی ایک تدبیر ہے اور سب سے بڑی تدبیر ہے ۔ اور دوسرا امتیاز یہ ہے کہ دعا ہر حال میں ( گو دنیا ہی مانگی جائے بشرطیکہ نا جائز اور حرام شے کی دعاء نہ ہو ۔ ثواب و عبادت ہے دیگر عبادات میں اگر دنیا کی آمیزش ہو جائے تو وہ عبادت نہیں رہتی ۔ اور اگر مقصود ہی دنیا ہو ۔ پھر تو بطلان عبادت ظاہر ہے مگر دعاء سے اگر دنیا ہی مطلوب ہو جب بھی وہ عبادت ہے کیونکہ دعاء میں عبادت کی شان ہر حالت میں باقی رہتی ہے ۔ دعا کی فضیلت عقلا ارشاد ۔ ہر تدبیر میں انسان اپنے جیسے عاجز کے سامنے احتیاج کو ظاہر کرتا ہے ۔ خواہ قالا یا حالا اور دعاء میں ایسے سے مانگتا ہے جو سب سے زیادہ کامل القدرۃ ہے اور جس کے سب محتاج ہیں اور عقل سے پوچھو تو وہ یہی کہے گی کہ جو سب سے قادر تر ہے اسی سے مانگنا اکمل و انفع ہے پس یقیقنا یہ تدبیر ( دعا ) ہر تدبیر سے بڑھ کر ہے کیونکہ اور تدابیر بھی حق تعالی کی مشیت اور ارادہ سے ہی کامیاب ہو سکتی ہیں تو جو شخص حق تعالی سے مانگے گا وہ ضرور کامیاب ہو گا ۔ اجابت کے دو معنی ہیں ارشاد ۔ اجابت کے دو معنی ہیں ۔ ایک درخواست کا لے جانا یہ بھی ایک قسم کی منظوری اور بڑی کامیابی ہے اگر کوئی طبیب سے درخواست کرے کہ میرا علاج مسہل سے کر دیجئے تو اصل منظور تو علاج شروع کر دینا ہے گو مسہل نہ دے اور دوسری منظوری مسہل دینا ہے اس میں یہ شرط ہے کہ طبیب بھی مصلحت سمجھے دعا میں دل بستگی کا سہل طریقہ ارشاد ۔ دعاء میں اگر دل نہ لگتا ہو تو اس طرح سمجھا دے کہ دنیا میں نفع موہوم پر بھی ہمت سے کام کر لیتے ہیں گو آخر میں خسارہ ہی ہو جائے اور خسارہ کا خطرہ بھی ہوتا ہے جیسے تجارت وغیرہ میں احتمال ہے اور دعاء میں تو خسارہ کا احتمال ہی نہیں ۔ پھر اس میں کوتاہی کیوں کی جاتی ہے ۔ دعا حق تعالی سے خاص تعلق پیدا کرنے کا سہل طریقہ ارشاد ۔ دعا میں ایک خاص بات اور ہے وہ یہ کہ دعا کرنے سے بندہ کو حق تعالی سے خاص