ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 82 کی عبارت نہ فرماتے ۔ پس یہ یقینا یہ کسی حال میں مضر نہیں اور حقیقت اس کی یہ ہے کہ مسکین سے مراد حالا نہیں اخلاقا ہے امور دنیویہ کے لئے بھی دعا عبادت ہے ارشاد ۔ چونکہ آسائش دنیا کو جمعیت اور سکون قلب میں بڑا دخل ہے اس لئے اس کو بھی خوب مانگنا چاہئے امور دنیا کے لئے بھی دعا سے نہ رکنا چاہئے ۔ امور دنیویہ کے لئے بھی دعا عبادت ہے طاعات میں طلب ثواب اور دعا میں طلب اجابت افتقاد ہے ارشاد ۔ طاعات میں طلب ثواب اور دعاء میں طلب اجابت یہ افتقاد ہے کہ ہم کو کوئی درجہ استغناء کا حاصل نہیں حتی کہ جن چیزوں کا آپ نے ہم کو محتاج بنایا ہے ہم ان کے محتاج ہو کر ان کو طلب کرتے ہیں ۔ اور یہ محض عبدیت ہے و من ثم قال صلی اللہ علیہ و سلم فی حمد الطعام غیر مودع منہ ولا مستغنی عنہ ربنا و قال اللہ تعالی بعد ذکر الجنۃ و فی ذلک فلیتنا فس المتنا فسون اور جو بعض بزرگوں کی حکایت سے استغناء ثابت ہوتا ہے وہ ان کے حال ناقص سے ناشی ہے اور وہ حجت نہیں ۔ گو معذور ہوں ۔ و شتان بین من ھو ملام و بین من ھو غیر ملام شرط دعا برائے کیفیات ارشاد ۔ کیفیات کے لئے دعا کرنا مضائقہ نہیں بشرطیکہ عدم اجابت سے ذرا قلق نہ ہو ۔ باقی کوئی تدبیر نہ کرے ۔ کون سی کیفیت قابل اتباع ہےحال ۔ جب نماز کے بعد دعا دنیا کے لئے مانگتا ہوں تو عظمت خدا وندی ایسی طاری ہوتی ہے کہ باوجود شدت ضرورت دنیوی حاجت کے دعا نہیں مانگی جاتی باوجودیکہ جانتا ہوں کہ تسمہ نعل بھی اسی سے طلب ہونا چاہئے ۔ ارشاد ۔ کیفیت وہ قابل اتباع ہے جس کے غلبہ کے وقت اس کے ضد کا خطور نہ ہو اور جب انکی ضد بھی مستحضر ہو اور وہ اقرب الی السنتہ ہو تو وجدانیات کے اتباع سے سنن کے اتباع کو ترجیح و تقدیم ہے ۔