ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 79 کی عبارت ذکر میں جو مشقت ہو جیسے دو ہزار کی جگہ چار ہزار دفعہ ذکر کیا جائے یہ مشقت موجب اجر ہے اور ایک مشقت یہ ہے کہ خاص آواز اور خاص ہئیت سے ذکر کیا جائے سو یہ محض طریق ہے اس میں مشقت باعث اجر نہیں ۔ ذکر میں جہر کا ثبوت اور مصالح ارشاد ۔ اگر مقصود نفس ذکر ہو اور جہر اعتدال سے ہو اور یہ مصلحت دفع خواطر و حصول جمعیت و سکون قلب ہو تو وہ بدعت نہیں بلکہ ایسا جہر شریعت سے ماذون فیہ بلکہ حدیث میں وارد ہے چنانچہ حدیث تعجرن الی بالدعاء سے جہر کا ثبوت ہو رہا ہے ۔ اسم ذات کا مقصود مدلول کا رسوخ فی القب ہے اس لئے بحکم ذکر ہے ارشاد ۔ محققین صوفیہ نے اس راز کو سمجھا کہ اللہ اللہ کرنا گو ذکر نہیں مگر مقصود کے لئے تیار ہونا ہے اس واسطے بحکم ذکر ضرور ہے اور اصلی مقصود اس ذکر سے اس کے مدلول کا رسوخ القب ہے اور قاعدہ ہے کہ رسوخ کے لئے تکرار موثر ہوتا ہے اور اس کیلئے تجربہ کافی ہوتا ہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ رسوخ کے لئے جو طریقہ اختیار کیا جائے وہ طریقہ سنت سے ثابت ہو ۔ ذکر میں صدق و خلوص کا طریقہ ارشاد ۔ محققین کا قول ہے کہ حق تعالی کے صفات و کمالات خود ایسے ہیں کہ اس کا کمال اس کو مقتضی ہے کہ ان کی طرف توجہ کی جائے اور ان کی یاد دل میں بسائی جائے کسی وقت ان سے غافل نہ ہو ۔اگرچہ وہ ہماری طرف توجہ بھی نہ فرمائیں ۔ اگرچہ ہمارے ذکر پر کوئی ثمرہ عاجلہ مرتب نہ ہو چہ جائیکہ ایک دوسرا مقتضی بھی موجود ہے ۔ یعنی ان کا بندہ کی طرف توجہ فرمانا چنانچہ ارشاد ہے فا ذکرونی اذکر کم من تقرب الی شبرا تقربت الیہ ذرا عا الخ ۔ بلکہ بغیر تمہاری توجہ کے توجہ فرماتے ہیں ۔ چنانچہ ارشاد ہے ان لربکم فی دھر کم نفحات ( توجھات ) الا فتعرضولھا ۔ یعنی تمھارے رب وقتا فوقتا تمھاری طرف توجہ فرماتے رہتے ہیں ۔ اس لئے تم کو ان کی طرف دائمی توجہ رکھنا چاہئے ۔ رسوخ ذکر کا اعلی درجہ اس کے تحصیل کا طریقہ ارشاد ۔ رسوخ ذکر کا اعلی درجہ یہ ہے کہ ذات بحث کا تصور راسخ ہو جائے اور یہ پیدا ہوتا ہے کثرت ذکر سے مع تصور ذات بحث کے ۔ اور اگر ذکر میں بھی صرف اسم ذات کا اختیار کیا جائے تو اہل طریق کے تجربہ سے اس تصور کا زیادہ معین ہوتا ہے ۔