ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 78 کی عبارت اللہ کا قاف اور احد کی دال اور انحد میں ان نفی کا کلمہ ہے یعنی بے حد غرضیکہ افراط و تفریط دونوں معیوب ہیں ۔ رسوخ و پختگی کے حصول کا طریقہ ارشاد ۔ رسوخ و پختگی کے لئے ضرورت ہے کہ ہرگز کسی وقت بے فکر نہ ہو ۔ اوقات اور نفس کی نگرانی رکھیں ۔ ذکر وصلوۃ کو رضا و قرب میں زیادہ دخل ہے ارشاد ۔ جو مقصود اصلی ہے یعنی رضا و قرب اس کے حصول میں ذکر و صلوۃ کو زیادہ دخل ہے بہ نسبت مطالعہ کتب کے ۔ مطالعہ کتب مقصود بالغیر ہے گو لذت مطالعہ ہی میں زیادہ ہو ۔ اور ذکر صلوۃ مقصود ہے ۔ مقصود بالغٰر بقدر ضرورت ہونا چاہئے اور مقصود بالذات مستقلا یہ ساری خرابی شوق اور ذوق کے مقصود کو سمجھنے کی ہے اور یہی غلطی ہے ظاہر ہے کہ چٹنی میں جتنا لطف ہے غذا میں نہیں ۔ مگر جز و بدن و بدل ما یتحلل غذا ہی بنتی ہے ۔ فکر اور ذکر استغراق سے افضل ہیں ۔ ارشاد ۔ فکر مقصود بالغیر ہے اور ذکر مقصود بالذات ہے ۔ یہ دونوں استغراق سے افضل ہیں ۔ اس لئے استغراق میں ترقی نہیں اور ان میں ترقی ہے ۔ ذکر بالجہر کی اجازت تہجد میں کب ہے ارشاد ۔ جو جاگنا نہ چاہے تہجد کے لئے اس کے پاس ذکر باجہر نہ کریں اور جو جاگناہ چاہتے ہوں ان کے پاس ذکر بالجہر کی اجازت ہے ۔ درود نہ پڑھنے پر حضورؐ کی خفگی کی وجہ ارشاد ۔ جو حضورؐ کا نام مبارک سن کر درود نہ پڑھے آپ نے اس شخص کو بد دعا دی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضورؐ کے نام پر درود نہ پڑھنے سے چونکہ اللہ تعالی کا غصہ اس شخص پر ہوتا ہے اس لئے آپ نے امت کو خدا تعالی کے غضب سے بچایا ہے ۔ پس وجہ اس بدعا کی شفقت ہے نہ کہ خود غرضی مقصد میں تو مشقت موجب اجر ہے اور طریق میں نہیں ارشاد ۔ مقاصد میں تو مشقت موجب اجر ہے اور طریق میں نہیں ۔ مثلا ذکر مقصود ہے تو نفس