ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 77 کی عبارت جائے گا ۔ انبیاء کا کمال یہ ہی تھا کہ وہ اللہ کی یاد کو مقصود بالذات بناتے تھے ۔ ذکر طاعات کو مقصود نہ بناتے تھے ۔ اور یہی حکمت ہے آپ کے سہو کی کہ حضورؐ کو جو سہو ہوا ہے تو حق تعالی کی طرف سے توجہ کامل کرنے سے ہوا کہ اس وقت آپ کی توجہ نماز کی طرف نہ تھی بلکہ نماز سے اعلی کی طرف تھی یعنی حق تعالی کی طرف ۔ ذکر میں کسل کی وجہ سے نیند کا علاج ارشاد ۔ جو شخص رات بھر سوتا رہے پھر بھی اس کو ذکر میں نیند آئے تو اس نیند کا منشاء کسل ہے اس کو چاہئے کہ جب نیند کا غلبہ ہو ایک سیاہ مرچ چبا لے یہ مقوی دماغ بھی ہے اس لئے مضر نہ ہو گا ۔ تنگ وقت میں نماز کا طریقہ ارشاد ۔ نماز کا وقت تنگ ہو گیا تو لازم ہے کہ فرائض و واجبات پر اکتفا کیا جائے اور سنن کو خذف کیا جائے ۔ اس وقت اختصار ہی مطلوب ہے بہت لوگ طلوع آفتاب سے پہلے اٹھ جاتے ہیں ۔ مگر علم نہ ہونے کی وجہ سے نماز قضا کر دیتے ہیں ۔ ان کی تو نیت ہی دیر میں بندھتی ہے کہ جاننے والا اس میں ایک رکعت پڑھ لے ۔ دوستوں کی دل جوئی بھی عبادت ہے ارشاد ۔ عبادت صرف نفلیں ہی پڑھنے کا نام نہیں ہے دوستوں کی دلجوئی اور ان کے ساتھ باتیں کرنا بھی عبادت ہے جمعہ و عید میں عطر لگانے کی نیت ارشاد ۔ جمعہ و عید کے دن عطر اس نیت سے لگانا کہ ہم اللہ میاں کو اچھے لگیں عین عبادت ہے ۔ من تطیب للہ فلہ اجرہ ۔ مقدار عبادت میں افراط اور تفریط دونوں معیوب ہیں ارشاد ۔ عبادت اتنی کرنی چاہیے ۔ جس میں کچھ مشقت بھی ہو گو اس قدر زیادہ نہ ہو جو تحمل سےزیادہ ہو جس سے دل اکتا جائے بلکہ امامت میں تو مقتدیوں کے لحاظ سے اختصار کریں اور تنہا ذرا کسی قدر تطویل کیا کریں ہاں اتنی تطویل نہ کریں جو نفس پر زیادہ شاق ہو ۔ جس کو بناہ نہ سکیں ۔ غرض نہ انقد ہو نہ انحد ہو ( انقد اختصار ہے الحمد اور قل ہو اللہ کا جس میں الحمد کا تو الف لے لیا گیا اور الضالین کا نون اور قل ہوا