ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 76 کی عبارت ذکر کی حقیقت ارشاد ۔ معاصی سے جو چیز رو کے وہ ذکر اللہ ہی ہے چنانچہ جنت اور دوزخ کی یاد اگر معاصی سے روکے وہ بھی ذکر اللہ ہے اسی طرح مراقبہ اگر ذات معاصی سے روکے ذکر اللہ ہے ۔ قلب ذاکر مثل تعویذ ملفوف کے ہے اس لئے پاخانہ میں ذکر قلبی جائز ہے ۔ ارشاد ۔ پاخانہ میں دل سے خدا تعالی کی یاد کرنا ہی ذکر حقیقی ہے ممنوع نہیں کیونکہ قلب پاخانہ نہیں ہے چنانچہ صوفیہ کا قول ہے کہ لطیفہ قلب جسم سے باہر ہے ۔ وہ دوسرے عالم میں ہے اور اگر کوئی استحقیق کو نہ مانے تو وہ کیوں کہہ لے کہ قلب ذاکر مثل تعویذ ملفوف کے ہے اور تعویذ ملفوف کو پاخانہ میں لے جانا جائز ہے اور گو زبان بھی ملفوظ ہے ۔ مگر زبان سے ذکر جب ہی ہو سکتا ہے جب کہ لبوں اور دانتوں کو حرکت ہو اور جب داندان کی حرکت ہو گی تو زبان مستونہ رہے گی ذکر نا جائز کب ہو جاتا ہے ارشاد ۔ اگر ذکر سے کسی کو تکیف ہونے لگے کہ نہ زبان سے ذکر کر سکے نہ دھیان سے جیسا کہ امراض جسمانیہ میں ایسا ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ضعف دماغ کی وجہ سے دھیان سے تکلیف ہو جاتی ہے تو اس شخص کو اس حالت میں ذکر جائز نہیں تاکہ ذکر سے نفرت نہ ہو جائے ۔ ذکر میں قیود و زوائد کا اہتمام عمل سے زیادہ نہ چاہئے ارشاد ۔ ایک صاحب نے اپنا خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہؐ کو خواب میں دیکھا تو مجھ سے فرمایا کہ ذکر نفی و اثبات کر کے دکھلاؤ تو میں نے لا الہ اللہ میں مد اور تی عنق الیمین کر کے باقاعدہ ادا کیا تو حضرتؒ نے فرمایا کہ اتنی دیر میں تو تم کئی دفعہ ذکر کر سکتے تھے جس سے ترقی زیادہ ہوتی ہے ایک بار میں اتنی دیر کر کے کیوں نقصان کیا ۔ اس کے جواب میں حضرت مولانا مدظلہ العالی نے فرمایا کہ یہ بالکل وہی مذاق ہے جس کو میں اکثر ظاہر کیا کرتا ہوں کہ عمل مقصود ہے اور یہ سب قیود و زوائد ہیں جن کا اہتمام عمل سے زیادہ نہ چاہئے ۔ حضورؐ کے سہو کی وجہ ارشاد ۔ طاعات کے یاد کرنے سے مقصود یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تاکہ شکر سے تعلق منعم قوی ہو ۔ جب یہ مقصود حاصل ہو گیا تو اب قصدا طاعات کو بھی یاد نہ کرے ورنہ عجب و کبر پیدا ہو