ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 75 کی عبارت ذکر ریائی ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ ہے جو پل صراط سے پار کر دے گا ارشاد ۔ حضرت حاجی صاحبؒ کی حکایت ہے کہ ان سے ایک شخص نے کہا کہ فلاں شخص ریا سے ذکر کرتا ہے ۔ فرمایا وہ تجھ سے اچھا ہے ۔ اس کا یہی ذکر ریائی ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ بن کر اسے پل صراط سے پار کر دے گا ۔ اور تیرے پاس تو ٹمٹماتا ہوا چراغ بھی نہیں ۔ مبتدی کو تکثیر ذکر اولی ہے تکثیر نوافل و کثرت تلاوت سے ارشاد ۔ آج کل مبتدی کو تکثیر نوافل سے یکسوئی حاصل نہیں ہوتی ۔ کیونکہ نماز میں متفرق افعال ہیں جن سے مبتدی کو تشتت ہوتا ہے اور ذکر میں ایک ہی چیز ہے اس میں مبتدی کو جلدی یکسوئی حاصل ہو جاتی ہے ۔ پس صوفیہ تکثیر ذکر کی تعلیم کر کے مبتدی کو تکثیر صلوۃ کے قابل بناتے ہیں چنانچہ انتہاء میں بجائے ذکر و شغل کے تکثیر نوافل اور کثرت تلاوت رہ جاتا ہے ۔ ذکر حقیقی کا معیار ارشاد ۔ ذکر حقیقی اور ہے اور صورت ذکر اور ہے ذکر حقیقی سارے معاصی سے بچنے اور تماماوامر کے بجالانے کو مستلزم ہے ۔ ذکر قلبی کی تحقیق ارشاد ۔ متاخرین صوفیہ نے محض ذکر قلبی تجویذ کیا ہے وہ بہت اچھی چیز ہے مگر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا ۔ بلکہ کچھ دیر کے بعد دل ادھر ادھر چلا جاتا ہے ۔ اور ذاکر یہ سمجھتا ہے کہ میں ذکر میں مشغول ہوں اس لئے میں یہ تجویذ کرتا ہوں کہ ذکر لسان سے بھی کرنا چاہئے اور اسی میں توجہ قلبی رکھنا چاہئے اگر کچھ دیر میں ذکر قلبی نہ رہے گا تو ذکر لسانی تو باقی رہے گا اور وقت ضائع نہ ہو گا خصوصا میری اس تحقیق کے بعد کہ جو عمل خالص نیت سے شروع ہو اس کی برکت و انوار مستمر رہتے ہیں گو وہ بہت مستحضر نہ رہے اور گو توجہ باقی نہ رہے ۔ ذکر کے درجات ارشاد ۔ ذکر کا ایک درجہ یہ ہے کہ اللہ کے نام کو یاد کرو ۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ بواسطہ نام کے ذات کو یاد کرو ۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ نام کا واسطہ بھی نہ رہے محض ذات کے ذکر پر قادر ہو جائے ۔