ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 136 کی عبارت تمکین کا نام توسط و اعتدال ہے ۔ تہذیب ۔ تمکین کے بعد تمام اشیاء کے حقوق بخوبی ادا ہوتے رہتے ہیں ۔ اسی تمکین کا نام توسط و اعتدال ہے اسی توسط کیوجہ سے اس امت کا نام امت وسط ہے ۔ حسن اخلاق کی بھی ایک حد ہے تہذیب ۔ حدیث میں ہے کہ جب تم سائل کو تین بار ( عذر سمجھا کر ) جواب دیدو اور وہ پھر بھی نہ جائے لپٹ کر جم ہی جائے جس سے ایذا ہونے لگے ) تو پھر اس کے جھڑک دینے میں کچھ ڈر نہیں ۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ حسن اخلاق کی بھی ایک حد ہے اور بندہ اس کا مکلف نہیں کہ اس حد سے آگ ایذا کا تحمل کرے ۔ ریاضت سے اصلاح اخلاق کے معنی تہذیب ۔ حدیث میں ہے کہ جب تم سنو کہ اپنی جگہ سے پہاڑ ٹل گیا تو تصدیق کر لو ( جب کوئی دلیل مکذب نہ ہو ) اور جب تم کسی شخص کی نسبت سنو کہ اپنے اخلاق سے ہٹ گیا ہے تو تصدیق مت کرو ( کیونکہ اس کا مکذب موجود ہے اور وہ مکذب یہ ہے کہ وہ پھر اسی حالت پر آ جائے گا جس پر پیدا کیا گیا ہے ) اس سے معلوم ہوا کہ ریاضت سے اخلاق جبلیہ زائل نہیں ہوتے ۔ ہاں مضمحل ہو جاتے ہیں ۔ عشق نا جائز و بد نگاہی تہذیب ۔ تحریر ذیل جواب ہے ایک مدرس کے خط کا جس کو ایک طالب علم سے محبت ہو گئی تھی اور اس کو دیکھنے کا سخت تقاضہ رہتا تھا اور اس کے اسباق کو اپنے پاس سے الگ کرنا چاہتے تھے اور مہتمم مدرسہ سے درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ ضرورت بالا کی وجہ سے مدرسہ سے میرا ایک گھنٹہ کم کر دیا جائے ۔ عشق نا جائز کا علاج جواب ۔ پیشہ تو ٹھہرا تعلیم کا اور اس میں سابقہ ٹھہرا ہمیشہ اطفال سے اور اطفال غیر متناہی بمعنی لا تقف عند حد سو اگر ایک کی تدبیر کر لی تو قطع نظر دوسرے مفاسد کے جو اس تدبیر میں ہیں مثلا اپنا اظہار حال غیر مربی پر جس کی حدیث میں ممانعت آئی ہے کہ معاصی کے اظہار سے منع کیا گیا ہے اور مقدمات معاصی بھی ایسے احکام میں ملحق بالمعاصی ہیں کیونکہ دوسرے شخص کو مقدمات کے اعتراف سے فورا ہی ظن پیدا ہو جائے گا اور یہ بھی ایک حکمت ہے ۔ نھی عن اظھار المعصیۃ میں البتہ مربی و مصلح اس سے مستثنی