ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 137 کی عبارت ہے جیسا کہ کشف عورت غیر طبیب کے سامنے حرام ہے اور طبیب کے سامنے جائز و قل من تنبہ بھذا التفصیل فی معنی الحدیث اور ایقاع دوسرے کا اسی فتنہ میں ۔ کیونکہ بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ایک شخص کسی کی محبت سے خالی الذہن ہے پھر کسی نے جب اپنی محبت کی اس کو اطلاع دی تو اس کو بھی التفات ہو گیا اس کے محاسن کی طرف اور اس التفات سے وہ بھی اس فتنہ میں مبتلا ہو گیا تو یہ اظہار ہی سبب بنا دوسرے کے واقع فی الفتنہ کرنے کا والتسبب للمعصیۃ بدون الضرورۃ معصیۃ اور مثلا محبوب کو رسوا کرنا خود اس کی بھی ممانعت ہے ۔ من عشق فعف و کتم فمات فھو شھید گو یہ حدیث متکلم فیہ بھی ہے لیکن دوسرے قواعد شرعیہ اس ممانعت کے لئے کافی ہیں کہ کسی کو رسوا کرنا ظاہر ہے کہ جائز نہیں بہر حال اس میں اس قسم کے مفاسد ہیں مگر ان مفاسد سے قطع نظر بھی کر لی جائے تو ایک کے لئے تو یہ تدبیر کر لی اور اگر بلا اختیار بقیہ میں سے کسی دوسرے کے ساتھ ایسا ہی تعلق ہو گیا ۔ کیونکہ قلب پر تو اختیار نہیں تو اس کے لئے بھی کیا یہی تدبیر کرو گے اور اگر تیسرے کے ساتھ یہی قصہ ہوا تو کیا ہو گا تو کیا سارے متعلمین کو حذف کر دو گے پھر تعلیم کس کو دو گے ہاں ایسے شخص کو خود پیشہ معلمی ہی کا ترک کرنا اگر ممکن ہو ( بشرطیکہ اس میں کوئی مصلحت ضروریہ فوت نہ ہو جس کا فیصلہ اپنے مصلح کے مشورے سے ہو سکتا ہے ) تو یہ سب سے اسلم ہے لیکن اسی سے ملا بست رکھتے ہوئے تو یہ تدبیر عام نہیں ہو سکتی ہے ۔ اس لئے قاعدہ ارئضین سے کام لینا چاہئے ۔ کہ گھوڑا جس چیز سے چمکتا ہو اس سے دور کرنے کا اہتمام نہیں کرتے کہ ہمیشہ کی مصیبت ہے بلکہ اس چیز کے سامنے آنے اور دیکھنے کا خوگر کرتے ہیں یہاں تک کہ چمک نکل جاتی ہے ۔ اسی طرح تم بھی پڑھاؤ اور معصیت سے بچو مثلا اپنی طرف سے مقصد التذاذ کلام کرنا ۔ ہاں عام خطاب سبق میں مضر نہیں اسی طرح اس کے سوال کا جواب بقدر ضرورت وہ بھی مضر نہیں اور مثلا اس کی طرف نظر کرنا باقی میلان و رجحان بلا اختیار اس طرف ہو تو وہ معصیت نہیں بلکہ اس کے مقتضاء پر عمل کرنے سے نفس کو روکنا مجاہدہ ہے اور صلاح نفس میں معین اور نفس کی تمرین شہوت دنیا مثال گلخن است کہ ازو حمام تقوی روشن است سو یہ امر اختیاری مضر نہیں لیکن بعض اوقات مبتلا کی کم ہمتی ہے یہ بھی مفضی الی المعصیت ہو جاتا ہے اور بعض اوقات گو مفضی الی المعصیت نہیں ہوتا مگر مفضی الی مرض الجسمانی ہو جاتا ہے اس لئے اس کا بھی تدارک کرنا اصلح ہے وہ تدارک یہ ہے کہ جب اس کی طرف کیفیت رحجان کا غلبہ ہو فورا یہ امر مستحضر کر لیا جائے کہ جب یہ شخص مرے گا آب و تاب تو فورا ہی سلب ہو جائے گی تو اس وقت کی آب وتاب محض عارضی و رعائتی و نا پائدار ہے اس قابل نہیں کہ اس کی طرف التفات کیا جائے ۔ پھر جب قبر میں