ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 134 کی عبارت بے قراری ہوئی اور عقلی درجہ یہ ہے کہ اس غم کو لے کر بیٹھ جائے اس میں غور و فکر کرتا رہے اور زبان سے تذکرہ کرتا رہے ۔ اس طرح جو شخص غم لے کر بیٹھے گا تو غم پہلے سے زیادہ ہو گا ۔ باب سوء تہذیبات حصہ اول رذیلہ کی اصلاح ( اس باب کا حصہ اول متضمن ہے اخلاق رذیلہ تعدیل کے طرق کو اور حصہ دوم اخلاق حمیدہ کی تحصیل و تکمیل کے طرق کو ) رذیلہ کے اصلاح کی حد تہذیب ۔ سالک کو چاہئے کہ رذائل کی اصلاح شیخ سے ایک ایک کی کرائے ۔ جب ایک رذیلہ کی مقاومت پر پوری قدرت ہو جائے اور مادہ کا اضمحلال ہو جائے تو دوسرے رذیلہ کا علاج شروع کرے اور اس رذیلہ کے ازالہ کلی کا کبھی انتظار نہ کرے ۔ کیونکہ یہ نا ممکن ہے بلکہ اس مادہ کے وجود میں ہزار ہا حکمتیں ہیں ۔ رذائل کے فطری ہونے کی دلیل تہذیب ۔ رذائل کے فطری ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بچوں کو بھی غصہ آتا ہے اور محققین کا قول ہے کہ غضب کبر سے پیدا ہوتا ہے اور پھر غضب سے غیبت پیدا ہوتی ہے جب بچوں میں غصہ ہے تو معلوم ہوا کہ ان میں کبر بھی ہے تو بچوں کے اندر ان امور کے ہونے سے معلوم ہوا کہ یہ امور فطری ہیں ۔ زوال رذائل سے مقصود اضمحلال ہے تہذیب ۔ زوال رذائل سے مقصود اضمحلال ہے اور اضمحلال کے معنی ہیں کہ مجاہدہ کے بعد ان اخلاق رذیلہ کی مقاومت میں پہلی جیسی مشقت نہ رہے ورنہ مجاہدہ سے نہ حریص کی حرص زائل ہوتی ہے نہ بخیل کا بخل نہ متکبر کا کبر ۔ ہاں اضمحلال ہو جاتا ہے جس کا ثمرہ یہ ہے کہ ان کا مقتضاء پر عمل نہ ہو ، کیونکہ عمل اختیاری ہے پس مقتضائے رذیلہ پر عمل نہ کرنا بھی بڑٰی کامیابی ہے اور مجاہدہ و ریاست سے بھی سہل و آسان ہو جاتا ہے