ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 133 کی عبارت حالت غیر اختیاری کو غنیمت سمجھنا چاہئے تحقیق ۔ جو حالت غیر اختیاری اللہ تعالی عطا فرمائیں ۔ اسی کو اپنے لئے غنیمت جانے اور اپنی خواہش سے کسی پسندیدہ حالت کی تمنا نہ کرے ۔ بدرد و صاف ترا حکم نیست دم ور کش کہ آنچہ ساقی ماریخت عین الطافت جو چیز اختیار کے تحت میں داخل نہ ہو وہ مذموم نہیں تحقیق ۔ حدیث میں ہے کہ جب جہاد میں مومن کا قلب کانپنے لگے مگر جہاد کو ترک نہ کرے تو اس کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے کھجور کی شاخ خشک ہو کر جھڑ جاتی ہے ۔ اس بز دلی پر بھی اجر ملنے سےمعلوم ہوا کہ جو چیز اختیار کے تحت میں داخل نہ ہو وہ مذموم نہیں ۔ طبعی رنج و غم کے فوائد تحقیق ۔ رنج و غم کو اخلاق کے درست کرنے میں بہت دخل ہے اس سے نفس کی اصلاح ایک بڑے درجہ میں بخوبی ہوتی ہے نیز آخرت کی طرف توجہ بڑھ جاتی ہے اور دنیا سے دل مکدر ہو جاتا ہے انہیں حکمتوں سے کاملیں کو بھی ایسے واقعات سے رنج ہوتا ہے مگر عقلی رنج نہیں ہوتا ۔ حزن طبعی کا علاج تحقیق ۔ حزن طبعی کا حدوث غیر اختیاری مگر تدبیر و علاج سے اس میں تقلیل ہو سکتی ہے ۔ اور وہ علاج یہ ہے کہ طبیعت کو دوسری چیز کی طرف متوجہ کرے ۔ یہ عام قاعدہ ہے کہ دوسری چیز کی طرف متوجہ ہونے سے پہلی چیز کمزور ہو جاتی ہے اور بعض امور کو تو ازالہ یا تضعیف میں خاص دخل ہوتا ہے ۔ مثلا غم کی حالت میں بشارت کو یاد کرنا ازالہ غم میں بہت مفید ہے ۔ چنانچہ حضرت موسیؑ کی والدہ کو اول تو عقلی خوف و حزن سے منع فرمایا لا تخافی و لا تحزنی ۔ ( یعنی اس غم کو لے کر بیٹھ مت جانا سوچ سوچ کر قصدا یاد کر کر کے زبان سے تذکرہ مت کرتی رہنا ۔ ہاں طبعی حزن کا مضائقہ نہیں ) پھر طبعی حزن و خوف کے ازالہ کی یہ تدبیر فرمائی کہ انا راد وہ الیک و جا علوہ من المرسلین کی بشارت سنائی ۔ خوف و حزن کے دو درجے تحقیق ۔ خوف و حزن کے دو درجے ہیں ایک غیر اختیاری یہ خوف و حزن طبعی ہے ۔ اور ایک اختیاری یہ خوف و حزن عقلی ہے مثلا طبعی حزن تو یہ ہے کہ ایک واقعہ رنج وہ ہوا اور دل پر اس سے چوٹ لگی