ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 132 کی عبارت ہے ۔ وارد موافق شرع بشارت ہے تحقیق ۔ اگر کوئی وارد موافق شرع ہو تو وہ وسوسہ نہیں بلکہ بشارت ہے ۔ اعتکاف کی حالت میں دل کا گھر میں رہنا تحقیق ۔ عتکاف کی حالت میں دل کا گھر میں رہنے کا تو کچھ ڈر نہیں ۔ کیونکہ غیر اختیاری ہے ۔ ہاں رکھنا نہ چاہئے ( کیونکہ یہ اختیاری ہے ) اور وہ بھی جب کہ بلا ضرورت ہو ۔ اور ضرورت سے تو بعض اوقات رکھنے کا حکم ہے یعنی انتظام حقوق واجبہ یا مستحبات کے لئے ۔ حضورؐ نے تو معراج میں کہ اعلی مقام ہے قرب کا ۔ اپنا دل امت میں رکھا تھا اور ان کے مصالح کا اہتمام فرمایا تھا ۔ معاصی کے ساتھ کیفیات نفسانیہ کا بقا دلیل مقبولیت نہیں تحقیق ۔ بعض اوقات معاصی کے ساتھ بھی بعضے احوال نفسانیہ باقی رہتے ہیں ۔ جیسے وجد و استغراق شوق و شگفتگی اور حیرت اور اس قسم کے اور کیفیت تو ان کے بقاء سے دھوکہ میں نہ آئے کہ میں ایسا مقبول ہوں کہ معصیت سے بھی مقبولیت میں خلل نہ پڑا ۔ کیونکہ یہ سب کیفیات دنیا ہیں دین نہیں اور دنیا کا عطا ہوتے رہنا علامات مقبولیت سے نہیں ان احوال کا نسبت سے کوئی تعلق نہیں اور نسبت معاصی کے ساتھ باقی نہیں رہتی یہ احوال محض کیفیات نفسانیہ طبعیہ ہیں ۔ جیسے فرح و سرور کیفیات طبعیہ ہیں ۔ حاصل یہ کہ یہ احوال اپنی اذات میں دینی امور نہیں ہیں بلکہ دنیوی امور ہیں البتہ بعض اوقات دین میں معاون ہو جاتے ہیں اور اس معین ہو جانے سے ان کا دین کا جزو ہونا لازم نہیں آتا ۔ مطلوب عقلی گریہ ہے ۔ طبعی گریہ نہ ہونا محرومی نہیں تحقیق ۔ بعض سالکین جو تربیت میں مختلف لوگوں کے حالات غلبہ خوف و بکاء کو دیکھ کر افسوس کیا کرتے ہیں کہ ہم کو ایسے حالات نہیں ہوتے وہ سن لیں کہ یہ طبعی گریہ ہے جو بعض کو پیش آتا ہے اور یہ مطلوب نہیں ۔ مطلوب عقلی گریہ ہے اور وہ تم کو بھی حاصل ہے کیونکہ نہ رونے پر افسوس ہونا یہ خود گریہ ہے ۔ پس میں افسوس کو تو منع نہیں کرتا بلکہ افسوس سے محرومی کے اعتقاد کو منع کرتا ہوں کہ تم اپنے کو محروم نہ سمجھو بلکہ شکر کرو کہ عقلی گریہ تم کو حاصل ہے جو مطلوب ہے ۔