ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 131 کی عبارت وفیہ اشارۃ الی النھی من التضجر عن اجابۃ الدعاء و الی الا مر با لرفضا بما وقع و اعتقاد الحکمۃ فیہ ) وصول اور ایصال دونوں غیر اختیاری ہیں تحقیق ۔ وصول اور ایصال کا قصد کرنا زمانہ طلب میں غلطی ہے ۔ کیونکہ قصد اس شئے کا ہو سکتا ہے ۔ جس میں قصد اور اختیار کو دخل ہو اور وصول اور صلاحیت ایصال دونوں تمہارے اختیار سے باہر ہیں ۔ کار خود کن کار بے گانہ مکن کام کے وقت مقصود پر نظر نہ کرو بلکہ کام پر نظر رکھو ۔ اہل کیفیات اور اہل استقامت میں کون متخلق با خلاق اللہ زیادہ ہیں تحقیق سالکین جن احوال اور کیفیات کے فقدان سے پریشان ہوتے ہیں ۔ ان کا فقدان کوئی نقص نہیں بلکہ کمال یہی ہے کہ بدون غلبہ احوال کے استقامت حاصل ہو اس کی حقیقت سمجھنے کے لئے دو مقدمے کے سمجھنے کی ضرورت ہے ایک یہ کہ تمام سلوک کا مقصد حضرت حق میں فنا ہے یعنی اپنی صفات کو صفات حق میں فنا کر دینا اور متخلق با خلاق اللہ ہونا ہماری صفات کے دو درجے ہیں ۔ ایک مبدا ۔ ایک منتہا ۔ مبدا انفعال ہوتا ہے مثلا ہمارے اندر رحمت و شفقت کا مادہ ہے تو اس کا ایک مبداء ہے ایک منتہا ہے مبداء یہ کہ کسی کی حالت اور مصیبت کو دیکھ کر دل دکھتا ہے یہ انفعال و تاثر ہے اور دل دکھنے کے بعد ہم نے اس شخص کے ساتھ جو ہمدردی کی اس کی اعانت کی یہ منتہا ہے اور فعل ہے اور یہی مقصود ہے صفت رحمت سے اسی طرح خوف میں مبداء وہی تاثر و افعال ہے کہ خدا کی عظمت و جلال کے خیال سے دل پر اثر ہوا رقت طاری ہوئی اور یہ منتہا ہے کہ خدا تعالی کی نا فرمانی سے رک گئے یہ فعل ہے اور یہی مقصود ہے اسی طرح محبت کا مبداء یہ ہے کہ دل میں عشق کی دکھن پیدا ہو اور محبوب کے خیال میں محو ہو جائے یہ انفعال و تاثر ہے اور منتہا یہ ہے کہ محبوب کی رضا جوئی اور خوشنودی کی طلب میں لگ جائے ۔ اللہ تعالی تاثر و انفعال سے پاک ہے ۔ اس لئے حق تعالی کی صفات میں مبادی نہیں ہوتے بلکہ غایات اور منتہا ہی ہوتے ہیں ۔ پس جس شخص کے اوپر خوف و محبت کی کیفیت غالب نہ ہو مگر استقامت افعال کی حاصل ہو کہ معاصی سے پوری طرح بچنے والا اور طاعات کا بجا لانے والا ہو تو اس میں صفات کے مبادی نہیں پائے گئے بلکہ صرف غایات پائے گئے اور یہ شخص متخلق با خلاق اللہ ہے اور جس پر ان کیفیات کا غلبہ ہو اس میں اول مبادی پھر غایاتپائے گئے تو یہ شخص اس درجہ کا متخلق با خلاق اللہ نہیں ہے پس اول تو کامل ہے اور دوسرا اس درجہ کا کامل نہیں