ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 130 کی عبارت تحقیق ۔ معلوم ہوتا ہے سہو سے حزن ہوتا ہے اور حزن سے خوف اور وہم غالب ہو جاتا ہے اور اس غلبہ سے سہو ہونے لگتا ہے اس کی تدبیر یہ ہے کہ آپ مجزون نہ ہوا کریں ۔ بلکہ اپنے دل کو قوی اور بے فکر رکھیں کہ اگر سہو ہو بھی گیا تو مسائل فقہیہ کے موافق عمل کرنے سے نماز ٹھیک ہو جائے گی پھر کا ہے کا غم ۔ کیفیات وجدیہ کے لئے دعا و تفویض چاہئے تحقیق ۔ حضور زائد اور کیفیات وجدیہ اور شوق و ذوق کے لئے دعا تو کرو مگر دعاء کے بعد ان کے منتظر بن کر نہ بیٹھو بلکہ اپنے کو خدا کے سپرد کر دو کہ ہمارے لئے جو بہتر ہو گا ہو کر رہے گا ۔ خواہ حصول ہو یا عدم حصول ۔ حجت نورانیہ حجت ظلمانیہ سے اشد ہیں اور اس کی وجہ تحقیق ۔ اسرار و ذوقیات کے نعمت ہونے میں شک نہیں ۔ اگر بدون طلب کے حاصل ہو جائیں تو شکر کرنا چاہئے مگر چونکہ یہ خود مقصود و مطلوب نہیں ہیں اس لئے ان کے در پے نہ ہونا چاہئے ۔ حضرت حاجی صاحب قدس سرہ کا ارشاد ہے کہ ذوق و شوق و انس وغیرہ حجب نورانی ہیں اور حجب نورانیہ حجب ظلمانیہ سے اشد ہیں ۔ کیونکہ حجب ظلمانیہ کی طرف سالک متوجہ نہیں ہوتا ۔ ان کو خود دفع کرنا چاہتا ہے ۔ اور حجب نورانیہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور التفات کرنے لگتا ہے جس کی وجہ سے توجہ مقصود اصلی سے ہٹ جاتی ہے ۔ کراہت موت طبعی ہے اس لئے مذموم نہیں حال ۔ مرنے سے قلب گھبراتا ہے ۔ تحقیق ۔ حدیث میں حضرت عائشہ کا قول کلنا یکرہ الموت ۔ اور اس پر حضورؐ کا نکیر نہ فرمانا مصرح ہے ۔ پس اس میں مذموم ہونے کا احتمال بھی نہیں ۔ یہ کراہت امر طبعی ہے ۔ ممانعت تمنی فضائل وہبیہتحقیق ۔ لا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی ( اے من لامور الغیر الاختیاریۃ ) للرجال نصیب مما اکتسبوا ( من الامور لاختیاریۃ ) وللنساء نصیب مما اکتسبن ( مثل ما کرنا فاجتھدوا فی لمکسوبات ولا تتمنوا الا مو ھو بات و اسئلوا اللہ من فضلہ ( اے لا باس بالدعاء للمو ھو بات فشتان ما بین التمنی والدعاء لکن بشرط ان لا یکون مالم یجزبہ سنت اللہ ) ان اللہ بکل شئی علیم ( من الا ستعداد لما سال عبد