ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 129 کی عبارت کے پائخانہ سے زیادہ نفرت ہوتی ہے اور راز اس تفاوت کافی المحبت ہے اور ظاہر ہے کہ انسان کو اپنے نفس سے زیادہ محبت ہوتی ہے بہ نسبت غیر کے اور یہی وجہ ہے کہ ماں کو اپنے بچہ کے پائخانہ سے اتنی نفرت نہیں ہوتی جیسا غیر محبوب کے پائخانہ سے تو اس کا کبر سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہمیشہ رہنے کی چیز عقل اور ایمان ہے تحقیق ۔ کسی حالت کا طاری ہونا اور چندے جاری رہنا یہ بھی بہت غنیمت ہے ورنہ ہمشیہ رہنے کی چیز تو عقل اور ایمان ہے باقی سب میں آمد ورفت رہتی ہے ۔ خواب کو قرب یا بعد میں دخل نہیں تحقیق ۔ خواب موثر تو ہوتا نہیں ۔ ( کہ قرب یا بعد میں اس کو دخل ہو ) البتہ اگر واقعی خواب ہو تو اثر ( یعنی کسی فعل نیک و بد کا ) ہو سکتا ہے اور ہم جیسوں کے خواب خواب ہی نہیں ہوتے ۔ اس لئے نہ وہ موثر ہیں نہ اثر اس لئے وہ اصلا قابل التفات نہیں ۔ خوابات کا درجہ تحقیق ۔ خوابات حجت شرعیہ نہیں اور نہ قطعی ہیں جن کی بناء پر کسی سے مناظرہ کیا جائے مگر رویا صالحہ نبص حدیث مبشرات میں سے ہیں ۔ جن کی خاصیت طبعا تسلی و فرحت ہے ۔ ( اور دلائل شرعیہ کے ساتھ موافق ہونے سے ان کے صدق کا پہلو راجح ہو جاتا ہے ۔ کسی کے انتقال پر ایک قطرہ اشک نہ آنے کی وجہ حال ۔ بیوی کا انتقال ہوا لیکن مجھے بخدا ایک قطرہ اشک کا نہ آیا ۔ حالانکہ سب اہل و عیال روتے تھے ۔ تحقیق ۔ اس کی وجہ اختلاف ہے ۔ طبائع کا بعض پر عقلیت کا رنگ طبیعت پر غالب ہوتا ہے اس وقت ایسے آثار کم ہوتے ہیں اور یہ نقص کچھ نہیں ۔ مطلوب بکا قلب ہے نہ بکا عین ۔ ورنہ یہ ارشاد نہ ہوتا فان لم تبکوا افتبا کوا بلکہ تبکوا پر کوئی ملامت ہوتی ۔ تکرار سہو حال پنج وقتہ نماز میں بالخصوص فرض و وتر میں بہت سہو ہوتا ہے غرضیکہ ایک ایک نماز مکرر مکرر پڑھتا ہوں ۔ سجدہ سہو کی تلافی سے بھی جی نہیں خوش ہوتا اور نفس پر گرانی ہوتی ہے ۔