ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 127 کی عبارت جو کیفیت معصیت کے ساتھ ہو مر دود ہے تحقیق ۔ اہل باطل جو بیوی سے علیحدہ رہتے ہیں اس کا منشاء یہ ہے کہ بیوی کے اختلاط سے یکسوئی وغیرہ کی کیفیت میں خلل نہ آ جائے حالانکہ جو کیفیت معصیت کے ساتھ بھی مجتمع رہے ایسی کیفیت خود مر دود ہے ۔ کیفیت محمودہ مذمومہ کی تعریف تحقیق ۔ بعض کیفیات محمودہ و مذمومہ میں تشابہ ہے ان میں امتیاز کا معیار یہ ہے کہ جو کیفیت کسی گناہ کا مقدمہ ہو جائے وہ مذموم ہے ورنہ محمود ہے یعنی محمودہ کیفیت ہے جس سے طاعت میں ترقی اور گناہ میں کمی ہو ۔ اگر یہ معیار سامنے نہ ہو تو پھر کیفیات تو جوگیوں کو بھی نصیب ہو جاتی ہے ۔ کیا ان کو بھی صوفی اور ولی کہو گے ۔ کیفیات کے مقصود نہ ہونے کی دلیل تحقیق ۔ دین میں مقصود وہ ہوتا ہے جو بدون تحصیل کے حاصل نہ ہو ۔ جس کا حصول صرف اختیار پر موقوف ہو ۔ اور قرآن میں مںصوص ہے کہ بعضے احوال جیسے کشف مرتے ہی سب کو خو بخود حاصل ہو جائیں گے یہاں تک کہ کفار کو بھی چنانچہ ارشاد ہے ۔ و بدالھم من اللہ ما لم یکونوا یحتسبون فکشفنا عنک غطاءک فبصرک الیوم حدید ۔ اسمع بھم و ابصر ۔ صحت وارد کی شرط تحقیق ۔ کسی حال یا کسی وارد کو صحیح مت سمجھو جب تک وہ شریعت کے موافق نہ ہو ۔ نسیان کا منشا کبھی تصرف شیطان ہے اور کبھی ضعف دماغ تحقیق ۔ توجہ قلب از بس دشوار ہے خصوصا جب کے اعضاء ظاہرہ کو سکون ہو تو اس وقت قلب کو حرکت زیادہ ہوتی ہے اور سب کے عوض وہی کام میں لگ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے نماز میں دنیا بھر کی باتیں یاد آ جاتی ہیں ۔ امام ابوحنیفہؒ نے اسی قاعدہ سے ایک شخص کو بھولا ہوا دفینہ یاد کرنے کا طریقہ یہ بتلایا کہ آج رات بھر نماز پڑھنے کا قصد کر لو ۔ کیونکہ شیطان کو یہ گوارا نہ ہو گا کہ اس کو رات بھر نماز پڑھنے دے اس لئے جلد یاد دلا دے گا ۔ یہ علاج اس وقت ہے جب کہ نسیان کا منشاء تصرف شیطانی نہ ہو کہ ضعف دماغ ۔