ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 126 کی عبارت کشف کی تحقیق تحقیق ۔ علوم کشفیہ کا مطالعہ مضر ہے نہ ان کا کبھی مطالعہ کرے نہ ان کے تحقیق کے در پے ہو ہاں اجمالا اہل کشف کی بزرگی کا معتقد رہے اور اجمالا ان کی تصدیق بھی کرے ۔ کشف صحیح بھی باوجود امن عن التلبیس کے حجت شرعیہ اس کو لازم نہیں نہ خود صاحب کشف پر حجت نہ دوسروں پر جیسے چاند کو ہم آفتاب سے چھوٹا دیکھتے ہیں ۔ مگر شرعا یہ ابصار حجت نہیں نہ اس پر اعتقاد رکھنا واجب نہ ان کے خلاف کا اعتقاد حرام علوم کشف کو تصوف سے کوئی تعلق نہیں ۔ نیز قرب حق کا مدار معاملہ پر ہے نہ کہ علوم کشفیہ پر ۔ دنیا میں پریشانی کے انقطاع سے تو مایوس ہی رہنا چاہئے تحقیق ۔ پریشانی کے رفع ہونے سے تو امید ہی منقطع کر لینی چاہئے ۔ کیونکہ آپ تو پریشانی کے لئے پیدا ہوئے ہیں یہ تو جنت میں پہنچ کر ختم ہو گی ۔ تحقیق اس کشف کی کہ جنت میں بھی ارنی ارنی اہل عشق پکاریں گے تحقیق ۔ ایک عاشق کا قول کشفی ہے ۔ ان فی الجنان جنۃ لیس فیھا حورو ولا تصود ولا کن فیھا ارنی ارنی کو کشف حجت شرعیہ نہیں ۔ مگر ان صاحب کشف نے جو دلیل بیان کی ہے ۔ اس دلیل سے شبہ صحت کشف کا ہو سکتا ہے وہ دلیل یہ ہے کہ حسن و جمال حق حقیقتا بے نہایت و غایت ہے تو اس کا عشق بھی لا تقف عند حد ضرور ہو گا ۔ اس لئے بے چینی و پریشانی ایسے عشق کے لئے لازم ہے کیونکہ عاشقان مجازی کو تو وصال محبوب سے اس لئے چین آ جاتا ہے کہ ان کے محبوب کا حسن متناہی ہے وصال کے بعد جی بھر کے اس سے متمتع ہو گئے اور سکون ہو گیا اور جس کے محبوب کا حسن بے غایت ہو اس سے تو جتنا متمتع ہو گا اور نیا درجہ حسن کا ظاہر ہو گا ۔ پھر چین و سکون کیسا ہو سکتا ہے جواب اس کا یہ ہے کہ عشق و محبوب حقیقی دنیا میں تو اس لئے لا تقف عند حد ہے کہ یہاں اس کی استعداد کے تمام افراد کا تقاضہ پورا نہیں کیا گیا اور جنت میں ہر فرد کیمطابق استعداد پورا ہو جائے گا چنانچہ حق تعالی فرماتے ہیں وقالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا الجذن ان ربانا لغفور شکور الذی احلنا دار المقامۃ من فضلہ لا یمسنا فیھا نصب ولا یمسنا فیھا لغوب اگر جنت میں بھی پریشانی رہی تو ایسے عشق کو لے کر کیا کریں گے پس اس تقریر سے حسن حق کا محدود ہونا لازم نہیں آتا بلکہ استعداد طالب کا لامتناہیہونا لازم آیا جنت میں جس سے بالکل سکون ہو جائے گا ۔