ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 125 کی عبارت بلکہ مکمل ثواب ہے ۔ چنانچہ اولاد کے مرنے پر جو رنج ہوتا ہے اس پر ثواب کا وعدہ ہے ۔ ہاں عقلی رنج منقص ثواب ہے ۔ سو عشاق کو عقلی رنج نہیں ہوا کرتا ۔ عشق کے آ گے عقل بے چاری کیا چل سکتی ہے ۔ عشق آں شعلہ است کو چوں بر فروخت ہرشہ جز معشوق باشد جملہ سوخت نصف سلوک تحقیق ۔ غیر اختیاری امور کے در پے نہ ہو اور اختیاری میں کوتاہی نہ کرے ۔ یہ نصف سلوک ہے ۔ اعمال اختیاریہ ہی سے کیفیات پیدا ہوتی ہیں تحقیق ۔ کیفیات اعمال اختیاریہ سے حاصل ہوتی ہیں بشرطیکہ عمل اختیاری کو کیفیات کے قصد سے نہ کرے ۔ وعدہ اجر کر مصیبت غیر اختیاریہ پر ہے تحقیق ۔ وعدہ اجر کا ہر مصیبت پر نہیں صرف مصیبت غیر اختیاریہ پر ہے ۔ رد عمل مصیبت اختیاریہ ہے ۔ جیسے خود کشی مصبیت ہے مگر اس پر بجائے اجر کے عقوبت ہو گی ۔ کیونکہ یہ مصیبت مکتبہ ہے اسی طرح کسی عمل کا قبول نہ ہونا کسی اختیاریہ کوتاہی کے سبب ہے ۔ اعمال و احوال کی مثال تحقیق ۔ عاقل وہ ہے جو درختوں کی خدمت کرے ان کی نگہداشت کرے ۔ گھاس کا کیا ہے وہ تو خود رو ہے اپنے آپ ہی پیدا ہو جائے گی ۔ پس سمجھ لو کہ اعمال کی مثال درختوں جیسی ہے اور احوال و اسرار کی مثال گھاس کی سی ہے ۔اہل اللہ کے تمام شہوات و لذات سے الگ رہنے کا راز تحقیق ۔ آخر کوئی تو بات ہے ۔ جس نے اہل اللہ کو تمام لذات و شہوات سے الگ کر دیا ان چیزوں کے لئے عوام مرتے پھرتے ہیں وہ ان سے بالکل بیزار اور مستغنی ہیں نہ ان کو طلب مال کی ہے نہ لباس کی فکر ہے ۔ نہ عزت و جاہ کی خواہش ہے کوئی تو آگ ان کے سینے میں ہے جو پاس بیٹھنے والوں کو بھی بے قرار کر دیتی ہے ۔ یہ خود اس کی دلیل ہے کہ ان کے پاس یقینا وہ حقائق ہیں جن کی مخلوق کو خبر نہیں ۔