ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 124 کی عبارت امور غیر اختیاری کا حکم تحقیق ۔ جو امر بندہ کے اختیار میں نہ ہو اس کا ہر پہلو خیر ہے نہ اس کے در پے ہو نہ اس کو علامت مقبولیت یا مردودیت کی سمجھے ۔ مسائل میں خواب کا حکم تحقیق ۔ خواب پر اعتماد کرنا مسائل میں جائز نہیں ۔ اعمال صالح کے فوت کا غم سالک کو بہت نہ چاہئے تحقیق ۔ اعمال صالحہ کے فوت ہونے کا عوام تو جس قدر چاہیں قلق کریں ان کو تو مفید ہے اور سالکین ان کا بھی زیادہ غم نہ کریں بلکہ تھوڑی دیر تک رنج کر لیں ۔ پھر جی بھر کے توبہ کر لیں اور اپنے کام میں لگیں ماضی کی فکر میں نہ پڑیں کہ ہائے یہ کام کیوں فوت ہوا یہ خطا کیوں ہوئی ۔ ہر وقت اس کا شغل رکھنا سالک کو مضر ہے کیونکہ یہ فکر تعلق مع اللہ میں حجاب ہو جاتا ہے اور اس میں راز یہ ہے کہ تعلق مع اللہ بڑھتا ہے نشاط قلب سے اور یہ قلق نشاط کو کم کر دیتا ہے ۔ لیکن تھوڑی دیر تک قلق کرنا چاہئے اور خوب رونا دھونا چاہئے ۔ تا کہ نفس کو کوتاہی کی سزا تو ملے ۔ پھر اچھی طرح استغفار کر کے اس سے التفات قطع کرے ۔ آج کل زیادہ قلق کرنے میں ایک اور بھی نقصان ہے وہ یہ ہے کہ قلوب اس وقت بے حد ضعیف ہیں زیادہ قلق سے ان کا ضعف بڑھ جاتا ہے ۔ جس سے بعض اوقات تعطل کی نوبت آ جاتی ہے ۔ عدم مطلوبیت ترقی غم تحقیق ۔ عارف قصدا جلب غم نہیں کرتا ۔ بلا قصد کے اگر غم پہنچ جائے تو وہ اس کو لذائذ سے بڑھ کر قبول کرتا ہے ۔ کیونکہ نصوص و اشارات نصوص سے سمجھتے ہیں کہ غم بڑھانا یا طلب کرنا شرعا مطلوب نہیں ۔ چنانچہ حق تعالی فرماتے ہیں ۔ یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر ۔ حدیث میں ہے کہ من شاق شاق اللہ علیہ ۔ نیز اللہ تعالی نے الذین اذا اصابتھم مصیبۃ الخ میں تقلیل غم و تسہیل حزن کا طریقہ تعلیم فرمایا ہے ۔ معلوم ہوا کہ ان کو یہ مطلوب نہیں کہ غم بڑھایا جائے ۔ بلکہ اس کا حکم کرنا ملطوب ہے ۔ رنج کی دو قسمیں اور ان کا حکم تحقیق ۔ رنج کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک رنج طبعی ایک رنج عقلی ۔ سو رنج طبعی منقص ثواب نہیں ۔