ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 123 کی عبارت کی محبت دل میں پاتا ہوں ۔ تحقیق ۔ یہ تو مجھ کو بھی نصیب نہیں نہ جی چاہتا ہے ۔ کیونکہ اس صورت میں مختار نہ رہوں گا مضطر ہو جاؤنگا ۔ علوم مکاشفہ کا درجہ تحقیق ۔ علوم مکاشفہ سب ایسے ہی ہیں ۔ جو قرب میں دخیل نہیں ۔ مثلا وحدۃ الوجود یا تجدد امثال کہ ان کو قرب کے اندر کچھ دخل ہیں ۔ گو ان کے اثر سے کسی ایسے عمل کی نوبت آ جائے کہ جس کو قرب میں دخل ہو ۔ جیسے وحدۃ الوجود کے غلبہ سے انقطاع عن الخلق میں قوت ہو جائے مگر فی نفسہ خود ان کو قرب میں دخل نہیں ۔ کرامت کا رتبہ تحقیق ۔ کرامت کا مرتبہ ذکر لسانی سے بھی گھٹا ہوا ہے اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ ذکر سے کچھ توقرب ہوتا ہے اگر توجہ سے بھی نہ ہو اور کرامت سے کچھ قرب نہیں ہوتا بلکہ خود وہ قرب سے ناشی ہے قرب اس سے ناشی نہیں تو غایت مافی الباب وہ قرب کی علامت ہے بشرطیکہ وہ کرامت بھی ہو ۔ ماہدہ ثانیہ کے آثار حال ۔ معصتیوں کا تقاضہ بالکل پہلے ہونے لگا ۔ حیران ہوں کہ عرصہ کا نفس مضمحل شدہ پھر دوبارہ اسی شدت و جوش و ہیجان کے ساتھ تقاضہ کرنے لگا ۔ تحقیق ۔ اکثر اہل طریق کو یہی حالت پیش آتی ہے ۔ کچھ گھبرانے کی بات نہیں اس وقت نفس کا جو مقابلہ کیا جاتا ہے وہ مجاہدہ ثانیہ کہلاتا ہے اور اس مجاہدہ کا اثر انشاء اللہ تعالی راسخ ہو گا ۔ اور شاذ و نادر کسی امر طبعی کا تقاضہ یہ منافی رسوخ کے نہیں اس تغیر و تبدل کی مثال حسیات میں ایسی ہے جیسے شب کے آخر میں تاریکی کے بعد ایک نور ہوتا ہے جس کو صبح کاذب کہتے ہیں ۔ نا واقف خوش ہوتا ہے کہ تاریکی گئی پھر دفعتا وہ ںور زائل ہو جاتا ہے اور تاریکی چھا جاتی ہے مگر تھوڑی دیر میں پھر دوسرا نور آتا ہے جس کو صبح صادق کہتے ہیں وہ فاتح بلکہ ترقی پذیر ہوتا ہے ۔ طبعی امور قابل التفات نہیں تحقیق ۔ طبعی امور کے نہ ابقاء کا اہتمام چاہئے نہ ازالہ کی تدبیر بس التفات ہی نہ کیا جائے ۔