ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 122 کی عبارت غم کے مضر ہونے کی وجوہ تحقیق ۔ غم فی نفسہ مذموم یا مضر ہوتا تو حضرات انبیاء کے لئے غم تجویذ نہ ہوتا پس غم فی نفسہ مضر نہیں ۔ بلکہ افضاء الی اخلال الدین کی وجہ سے مضر ہے ۔ علاوہ اس کے غم سے دنیا کا ضرر بہت ہوتا ہے ۔ جیسے ضعف یا مرض ۔ غم کی حکمت تحقیق ۔ بڑی حکمت غم کی یہ ہے کہ غم سے شکستگی کی شان پیدا ہوتی ہے جس سے تکبر و غرور وغیرہ کا علاج ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت حکمتیں ہیں ۔ بچہ کے مرنے پر کیا دستورالعمل ہونا چاہئے ۔ تحقیق ۔ جب کسی کا بچہ مر جائے تو بجائے اس کے یہ سوچیں کہ ہائے وہ بچہ میرے پاس کھیلتا تھا ۔ مجھے لپٹتا تھا ۔ اب تھا ۔ اب میری گود سے الگ ہو گیا نہ معلوم کس حال میں ہو گا ؟ نہ معلوم کس نے پکڑا ہو گا ۔ بلکہ اسباب تسلی کو سوچا کریں مثلا یہی کہ حق تعالی کے افعال حکمت سے خالی نہیں ہوتے اس میں ضرور حکمت ہے ۔ اور یہ کہ موت مسلمان کے لئے باعث راحت ہے ہر حال میں وغیرہ وغیرہ لوگوں کو اولاد کے بڑا ہونے کی خوشی محض اس لئے ہوتی ہے کہ ان کا نفس یوں ہی چاہتا ہے ۔ ورنہ ان کو کیا خبر کہ بڑے ہو کر باعث راحت والدین ہو گا وبال جان ہو گا ۔ والدین کو آخرت میں کچھ نفع دے گا یا خود ہی سہارے کا محتاج ہو گا ۔ بچپن میں مرنے والے بچے بہت زیادہ کار آمد ہیں ۔ ان میں یہ احتمال ہی نہیں کہ دیکھئے آخرت میں یہ خود کس حال میں ہوں کیونکہ غیر مکلف تو یقینا مغفور لہ ہے وہ آخرت میں والدین کے بہت کام آوے گا اپنے والدین کی بخشائش اور دخول جنت کے لئے حق تعالی سے جھگڑے گا ۔ جیسا کہ بچوں کی عادت ہوتی ہے ۔ چنانچہ حکم ہو گا ۔ یا ایھا الطفل المراغم ربہ ادخل ابویک الجنۃ پس اولاد اللہ کی امانت ہے اس کو جب وہ لینا چاہیں خوش ہو کر خدا کے حوالہ کر دو ۔ ان کو اپنی چیز نہ سمجھو ۔ پریشانی کی بناء ۔ یہی ہے کہ تم ان کو اپنی چیز سمجھتے ہو اور سمجھ کر ان کے متعلق تجویذیں کرتے ہو ۔ فراق اختیاری کے آثار کا حکم حال ۔ حضرت والا یہاں آ کر ایک نفع تو محسوس ہوا کہ ظاہری فراق نے دل کو تڑپا دیا ۔ اب میں ہوں اور حضرت کی یاد ۔ اور حضرت ہر ہر چیز کی محبت ہر وابستہ کی محبت و عظمت یہ سوچ کر کہ ان کی آنکھیں حضرت کے دیدار سے مشرف ہیں ہر وابستہ درگاہ کو اپنے سے ہزار درجہ اچھا سمجھتا ہوں ۔ اور سب