ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 121 کی عبارت صفت ہے اور بفضلہ تعالی حاصل ہے ۔ البتہ جن کیفیات کو آپ نے مقصود لکھا ہے اور ان کے اضداد کو موجود ۔ ان کا تعلق مادی راحت اور مادی سکون اور مادی کلفت سے ضرور ہے تو اس کا معالجہ طبی مسئلہ ہے دینی مسئلہ نہیں ۔ اور نہ ان کی کیفیات طبعیہ میں معاصی یا طاعات کو کچھ دخل ہے ۔ بہت ممکن ہے اور واقع بھی ہے کہ ایک مطیع کو یہ گوارا کیفیات حاصل نہ ہوں اور ایک عاصی کو یا کہ کافر کو حاصل ہوں ۔ جب مقصود اور غیر مقصود میں تمیز حاصل ہو گیا تو غیر مقصود کے لئے کیوں سفر کیا جائے ۔ طبعی غم و کسبی کی تحقیق اور اس کی حکمت تحقیق ۔ فرمایا کہ ایک بات میں لاکھوں کی بتاتا ہوں ۔ وہ یہ کہ طبعی غم اور ہے اور کسبی غم اور ۔ اور طبعی غم کی مدت بہت کم ہے ۔ وہ تو خود بخود بہت جلد زائل ہو جاتا ہے ۔ ہاں کسبی غم جو خود سوچ سوچ کر پیدا کیا جاتا ہے اور تذخرہ کر کر کے بڑھایا جاتا ہے وہ البتہ اشد ہے مگر اس کا حدوث بقا اختیاری ہے سوچنا موقوف کرو ۔ تذکرہ نہ کرو تو کسبی غم پاس بھی نہ آئے گا ۔ رہا طبعی غم وہ البتہ غیر اختیاری ہے مگر وہ نہ تحمل سے باہر ہے نہ اس کی مدت زیادہ ہے شریعت نے تو ان کی مدت بس تین روز رکھی ہے ۔ چنانچہ تعزیت حاضرین بلد کی تین دن کے بعد نا جائز ہے ۔ پھر اس کی حکمت میں غور کیا جائے تو عملوم ہو گا کہ حق تعالی نے یہ غم بھی محض رحمت کی وجہ سے دیا ہے ۔ یعنی ایک دولت دینا چاہتے ہیں جس کا آلہ غم کو بتایا ہے ۔ غم کی حکمت یہ ہے کہ انسان متمدن ہے اور تمدن موقوف ہے ہمدردی پر اور ہمدردی موقوف ہے رقت قلب پر پس رقت کو تازہ کرنے کے لئے بعض دفعہ اسباب رقت یعنی غم وغیرہ نازل ہوتے ہیں اگر اس کی تجدید نہ کی جائے تو یہ قوت بالکل معطل ہو جاتی ہے ۔ چنانچہ اطباء نے تصریح کی ہے جس قوت سے کام نہ لیا جائے وہ بے کار ہو جاتی ہے ۔ بہر حال غم کی حکمت یہ ہے کہ اس سے قلب کی رقت اور صفت رحمت تازہ ہو جاتی ہے اور یہ بڑی دولت ہے جو دین میں کبھی کار آمد ہے اور دنیا میں بھی ۔ خوف اور حزن کے دفع کا طریقہ تحقیق ۔ خوف اور حزن رفع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا تذکرہ نہ کرے اس کا سبق روز مرہ نہ پڑھا کرے ۔ دوسرے یہ کہ اپنے ذہن کو اس طرح سے ہٹانے کی کوشش کرے اور کسی بات کی طرف لگائے ۔ خلق رذیل کی حد تحقیق ۔ اگر کسی میں خلق رذیل ہو مگر اس سے معصیت صادر نہ ہو تو خلق رذیل ہی نہیں ۔