ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 120 کی عبارت عمل کرو ۔ وہ حکم یہ ہے کہ جس مال کا مالک نہ معلوم ہو غریب آدمی کو اس کا صرف کرنا جائز ہے تم صرف کرو اور کسی سے ذکر مت کرو اور چونکہ لقطہ بھی خدا تعالی کی نعمت ہے ۔ اس لئے اس کا شکر کرو اور دعاء ہمیشہ مانگتے رہو ۔ فرق مابین طمانیت قلب و سکینہ روحی و بے اطمینانی و اضطراب طبعی حال ۔ رنج و راحت ۔ خوشی و غم کی ہر شئی سے بے حد متاثر ہوتا ہوں دین و دنیا کے ہر کام میں گھبرایا سا رہتا ہوں ۔ ہر بات میں جلد بازی و اضطراب رہتا ہے طمانیت قلب و سکینہ جس کو کہا جاتا ہے اس سے بالکل محروم ہوں گو وقت کافی موجود ہو کوئی خاص کام بھی نہ ہو ۔ لیکن نماز و ذکر وظیفہ وغیرہ اس طرح عجلت کے ساتھ ختم کر دیتا ہوں کہ جیسے کوئی آفت آ رہی ہے توجہ و یکسوئی کا نام نہیں ۔ حدیث نفس دو وساوس و خطرات کا ہر وقت ہجوم رہتا ہے اور اس میں نفس لذت بھی لیتا ہے ایک حصہ تو ضعف قلب و جسمانی کمزوری کا بھی اس مرض میں شریک معلوم ہوتا ہے لیکن بہت کچھ یہ چیزیں سیہ کار از نہ گذستہ زندگی کا نتیجہ ہیں ۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے بہتری باتوں سے توبہ کی توفیق عطا فرمائی ۔ لیکن قلب کی راحت وطمانیت سے محرومی بدستور ہے ۔ بس ایک علاج یہی سمجھ میں آتا ہے کہ کچھ دنوں کے لئے حضور کے آستانہ پر لا ڈالوں ۔ تحقیق ۔ آپ مذہب و فلسفہ کو کیوں مخلوط کرنا چاہتے ہیں ۔ مذہب نے اعمال و عقائد کا مکلف بنایا ہے ۔ اصطلاحی طمانیت و سکینہ و توجہ و یکسوئی نہ مقصود ہے نہ اس کے انتظار کی اجازت ہے نہ اضطراب و حدیث نفس و خطرات مضر مقصود ہیں نہ ان کے ازالہ کا امر ہے ۔ یہ سب کیفیات نفسانیہ طبعیہ ہیں جن کے وجدان و فقدان کی تحقیق اور ان کے اسباب کی تدقیق فلسفی بحث ہے البتہ یہی چیزیں ( یعنی طمانیت و سکینہ و یکسوئی کبھی روح کی بھی صفات ہوتی ہیں جن میں مادہ کا اشتراک نہیں ہوتا وہ بے شک مطلوب ہیں اور طاعات پر ضرور مرتب ہو جاتی ہیں گو تدریجا سہی ۔ لیکن ان کا رنگ ان طبعی کیفیات سے جدا گانہ ہوتا ہے اور وہ روحی اطمینان اس طبعی بے اطمینانی کے ساتھ اور روحی سکون اس طبعی اضطراب کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے ۔ اور ہوتا ہے آپ میں بھی جمع ہیں ۔ دلیل اگر خدا کی راہ میں آپ کی جان کا مطالبہ ہونے لگے اور مطالبہ کے بجا ہونے میں کوئی اجتہادی شبہ بھی نہ رہے کیا اس وقت آپ کی رائے میں کچھ تزاحم پیدا ہو گا ۔ یا آپ اپنے لئے قطعی فیصلہ کر لیں گے کہ جان حاضر کر دینا چاہئے ۔ گو وسوسہ کے درجہ میں اس صورت میں بعض مصالح کا فوت ہونا بھی سامنے آ جائے مگر وہ آپ کے اس عزم کو ضعیف نہیں کر سکتا یہ ہے وہ اطمینان جو روح کی