ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 118 کی عبارت النوم انما التضریط فی الیقظۃ لہذا عقلی غم تو ہونا نہ چاہئے رہا طبعی سو وہ خود مجاہدہ ہے اس کے انسداد کی تدبیر کی کیا ضرورت البتہ قضا امر اختیاری ہے اس کی کوتاہی پر عقلی غم عین مطلوب ہے اس کوتاہی کا انسداد یہ ہے کہ بعد نماز عشاء معمولات ادا کر لیں اور اگر آنکھ کھلے قند مکرر سہی ۔ ملامت و کسل علالت مبقی اجر و برکت ہے تحقیق ۔ علالت با کسل جو علالت سے ہو عذر ہے ( عدم ادائیگی معمولات کا ) جو بروئے نص و حدیث مبقی اجر و برکت ہے ۔ حق تعالی کے سعید و شقی بنانے پر عدم نا گواری کا علاج حال ۔ خدا تعالی شانہ کے سعید و شقی بنانے پر بالکل نا گواری نہیں ہوتی ۔ کیونکہ اس کا علم کسی چیز کی اہلیت کے خلاف متمنع اور محال ہے ۔ تحقیق ۔ مگر باوجود اس کے حق تعالی سے سعادت کا سوال کرنا چاہئے کہ مامور بہ ہے اور دعا کر کے امید قبول رکھنا چاہئے ۔ اور ان سب کو اس کی علامت سمجھنا چاہئے کہ اس کا علم انشاء اللہ تعالی ہماری سعادت کے ساتھ متعلق ہوا ہے ۔ کلال فی الذکر حال ۔ کثرت ذکر و تلاوت سے دماغ اور زبان دونوں میں کلال پیدا ہو جاتا ہے ۔ تحقیق ۔ آرام لے لینا مناسب ہے ۔ کیونکہ دوسرا مستقل شغل مثلا فکر بھی اس کلام کا موجب ہو گا ۔ اور یہ آرام گو صورتا غفلت ہے مگر چونکہ مقصود اس سے تہیہ للذکر ہے اس لئے بحکم ذکر ہے نوم عالم کو عبادت اسی جگہ سے کہا گیا ہے ۔ منام میں بد نفس کی حالت کی بشارت حال ۔ ( 1 ) خواب میں ایک لڑکی نظر آئی میرا نفس بد ہوا اور جماع کی تیاری کے وقت انزال قبل از دخول ہوا اور غسل کر لیا ۔ ( 2 ) مہمان خانہ کی تالی کی تلاش میں اس قدر وقت صرف ہوا کہ طلوع شمس ہو گیا اور نماز فجر قضا ہو گئی ۔ تحقیق ۔ عرفاء کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات کوئی معصیت کسی شخص کے لئے مقدر ہوتی ہے اور اللہ تعالی اپنی رحمت سے اس معصیت کو بیداری سے منام میں منتقل کر دیتے ہیں سو ایسے خواب سے خوش ہونا چاہئے کہ یقظ میں اللہ تعالی نے محفوظ رکھا اور منام میں مکلف ہی نہیں ہوتا ۔