ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 117 کی عبارت موت سے خوف کی وجہ حال ۔ میرے موضع میں طاعون ہے موت سے سخت خوف کھا رہا ہوں اس سے صاف اپنےضعف ایمان کی علامت معلوم ہوتی ہے ۔ تحقیق ۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک امر طبعی ہے ۔ میں نے حضرت مولانا فضل الرحمن صاحبؒ سے سنا ہے جن کے کمالات پر اتفاق ہے ایک بار فرماتے تھے کہ مجھ کو بہت ڈر موت سے لگتا ہے اور وہ جو حدیث میں آیا ہے من احب لقاء اللہ وہ عین موت کے قریب کی حالت ہے جو سب مسلمانوں کو نصیب ہوتی ہے اور اولیاء اللہ سے جو اشتیاق موت منقول ہے وہ بھی ایک حالت ہے جو غیر اختیاری ہے جیسے کہ خوف غیر اختیاری ہے اور امور اختیاریہ کی نہ تحصیل مامور بہ ہے نہ ازالہ بالکل تسلی رکھیں ۔ کیفیت مرکب بانس و ضعف کا علاج حال ۔ معمولات کی طرف طبیعت بالکل راغب نہیں ہوتی ۔ بجز مسجد کے طبیعت کہیں مانوس نہیں ہوتی ۔ دوسروں کا ذکر سن سن کر بے مسرت ہوتی ہے ۔ تحقیق یہ کیفیت مرکب ہے انس و ضعف سے ۔ بس لگنے کا انتظار نہ کیا جائے خود بھی ذکرکرنا چاہئے ۔ گو قلیل سہی اور گو جی نہ لگے اور تربیۃ السالک کا مطالعہ ضروری ہے ۔ سالک کی یاس کا قدرتی علاج حال ۔ دو روز کی نماز فجر و عشاء غفلت کی وجہ سے قضا ہو گئی جس کی وجہ سے بار گاہ الہی میں بہت رویا ۔ دوسری رات کو خواب میں جواب ملتا ہے کہ تیرے تزکیہ باطن اور ترقی مراتب کے لئے ایسا کیا گیا تحقیق ۔ یہ جو کچھ وارد ہوا انکشاف ہے بعض مصالح و حکم و اسرار بعض ذلات کا جو بلا اختیار واقع ہو جائیں ۔ جس سے مقصود سالک کی یاس کا علاج ہے بوجہ اس کے کہ یاس سے تعطل اعمال میں اور کفر ان احوال میں پیدا ہونا محتمل ہے بس اس نعمت کے انکشاف پر شکر کرنا چاہئے ۔ اور معنی اس کے رخصت فی التساہل نہ سمجھنا چاہئے ۔ ناغہ تہجد کے غم کا علاج حال ۔ سدود او قا ربوا پر عمل کی غرض سے دوام تہجد و اذکار کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن اکثر ہفتہ میں دو روز آنکھ ہی نہیں کھلتی پھر دن میں ہمت قضاء کی ہوتئ نہیں ۔ اس کا بہت ملال رہتا ہے ۔ تحقیق ۔ جس ذات مقدسہ کا ارشاد ہے ۔ سدود او قا ربوا اسی کا ارشاد ہے لا تفریط فی