ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 116 کی عبارت رغبت و نفرت طبعی کا حکم اور اس کا علاج حال ۔ طاعت کی طرف نہ رغبت ہوتی ہے ۔ اور نہ قصدی استحضار نہ معاصی سے طبعی نفرت ہے ۔ تحقیق ۔ رغبت اور نفرت طبعی غیر مطلوب ہے ۔ رغبت اور نفرت اعتقادی کافی ہے یہی مامور بہ ہے اس کے مقتضا پر بار بار عمل کرنے سے اکثر طبعی رغبت اور نفرت اعتقادی کافی ہو جاتی ہے ۔ اگر ہو تو بھی مضر نہیں ۔ بشاشت طاعت سے عدم علوم خلوص کا شبہ غلط ہے حال ۔ بعض لوگوں نے حفظ کلام اللہ پر تعریف کی اس سے ایک قسم کی بشاشت نفس میں پائی گئی ۔ اس وجہ سے مجھے اپنے خلوص نیت میں شبہ پڑ گیا ہے ۔ ارادہ ہے کہ حفظ کا کام تا خلوص نیت ملتوی کر دوں ۔ تحقیق ۔ ہرگز ایسا نہ کیجئے بشاشت سے شبہ نیت میں عدم خلوص کا خود یہی غلط ہے ورنہ شیطان کو ہر عمر صالح کے چھڑا دینے کا ایک اچھا ذریعہ ہاتھ آ ئے گا ۔ کہ لوگوں سے تعریف کرا دی اور آپ کو شبہ میں ڈال دیا ۔ بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جس طرح عمل للخلق ریا ہے اسی طرح ترک عمل للخلق ریا ہے ۔ امامت سے کبر و عجب کا شبہ حال ۔ ایک قاری عالم نے ایک جاہل کے بجائے امامت کرنا شروع کر دی تھی ۔ اس پر ان کو خیال ہوا کہ اس میں تو اپنے کو اس سے اچھا سمجھنا پایا جاتا ہے ۔ تحقیق ۔ اپنے کو اچھا سمجھنا لازم نہیں ۔ بلکہ اللہ تعالی نے جو دولت علم و تصحیح قرآن کی عطا فرمائی ہے ۔ اس عطیہ کو اس عطیہ سے جو اس نے عطا فرمایا ہے افضل سمجھنا لازم آتا ہے سو اس میں کیا حرج ہے ۔ اور چونکہ وہ اپنی ذات صفت نہیں اس لئے اپنے کو اچھا سمجھنے کا لزوم بھی نہیں ۔بعض فی اللہ کی حدت کا علاج حال ۔ جب کوئی قضیہ بد دین سے اس کی بد دینی کی وجہ سے ہو جاتا ہے تو سخت غیظ و غضبت طیش وحدت سے ہوتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ ظالم بد دین کا قلع قمع کر دیا جائے ۔ تحقیق ۔ یہ بغض فی اللہ عین مطلوب ہے اور اثر غیر اختیاری ہے ۔ افعال میں تعدیل کا اہتمام رکھنا چاہیے ۔