ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 113 کی عبارت حال ۔ قضا نمازوں کی ادائیگی میں مشغول ہوتا ہوں تو دل بے حد تنگ ہوتا ہے ۔ تحقیق ۔ تھوڑا تھوڑا قضا کرتے رہیں تو انشاء اللہ از خود تنگی رفع ہو جائے گی اگر یہ نہ ہو سکے تو ایک دن کے ناغہ سے قضا شروع کریں اور بہت سہل ہو جائے گا اور کام چستی سے نہ ہو سستی ہی سے سہی جس طرح حل کر لیا جائے ۔ تلوین مقدمہ تمکین ہے تحقیق ۔ احوال علی سبیل التعاقب وارد ہوتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ایک روز تمکین میسر ہو جاتی ہے تلوین مقدمہ تمکین ہے مقدمہ سے نہ گھبرانا چاہئے کہ یہی سفیر مقصود ہے ۔ معمولات کے ناغہ ہو جانے کی حکمتیں حال ۔ تمنا یہ ہے کہ کبھی معمولات میں ںاغہ نہ ہو بعض افتاد پڑ جاتی ہے کہ ناغہ ہی ہو جاتا ہے تحقیق ۔ کچھ مضائقہ نہیں اس میں بھی حکمتیں ہیں ۔ اس میں اظہار ہے اپنی بے چارگی کا اس میں قطع ہے دعوی کا ۔ اس میں علاج ہے عجب کا ۔ البتہ حتی الامکان تساہل خود نہ ہو اور ناغہ کا عوض بھی کر دیا جائے اگر تام نہ ہو غیر تام سہی ۔ شیخ سے استفادہ کی شرط حب عقلی ہے تحقیق ۔ شیخ سے استفادہ کی شرط حب عقلی ہے نہ کہ محبت طبعی ۔ آثار غلبہ وحشت تحقیق ۔ اگر دنیا کے مٹنے اور خدا کی طرف جانے کا تقاضہ ہو تو یہ وحشت عن الدنیا ہے مگر اس کا ایک لون یہ بھی ہے کہ وحشت فی الدین بھی ہونے لگتی ہے ۔ چونکہ تحقیق اس دین کا بھی دنیا میں ہے ۔ پس اس وحشت کو دین سے اقتران ہو جاتا ہے جیسا کسی کو غم ہوا اور وہ غم نماز میں بھی رہے تو نماز اس غم کا ظرف تو ہے مگر خود وہ غم نماز سے تو نہیں ۔ ضعف قلب کوئی مرض باطنی و اخلاقی نہیں تحقیق ۔ ضعف قلب کوئی مرض باطنی و اخلاقی نہیں بلکہ مرض طبی ہونے کے سبب خود موجب اجر ہے اور بعض آثار کے اعتبار سے نافع باطن ہے جب کہ اس سے پستی اور شکستگی پیدا ہو جو کہ اعظم مقاصد