ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 111 کی عبارت تحقیق ۔ وظیفہ میں تو ایک ہی چیز بار بار پڑھی جاتی ہے ۔ طبیعت پر زور نہیں پڑتا ۔ آسانی کی وجہ سے دل لگتا ہے اور قرآن میں مختلف کلمات مختلف آیات پڑھی جاتی ہیں ۔ طبیعت پر زور پڑتا ہے ۔ دشواری کی وجہ سے گرانی معلوم ہوتی ہے ۔ سو یہ طبعی بات ہے کوئی فکر کی بات نہیں مگر جس قدر بھی ہو سکے کرتے رہنا چاہئے بعد عادت کے یہ دشواری جاتی رہے گی ۔ انشاء اللہ تعالی اور دلچسپی بھی پیدا ہو جائے گی ۔ ذوق مطلوب نہیں تحقیق ۔ ذوق مطلوب نہیں کیونکہ وہ ایک حال ہے نہ کہ مقام اور مقام مطلوب ہیں نہ کہ احوال اور فرق دونوں میں اختیاری اور غیر اختیاری ہونے کا ہے اور اہل فن کا قول ہے ۔ المقامات مکاسب والا حوال مواھب حضرت حاجی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے طالب لذت طالب حق نہیں ہے ۔ کام میں لگنا چاہئے ثمرہ پر نظر نہ چاہئے ۔ شوق مطلوب نہیں ۔ تحقیق ۔ شوق مطلوب ہی نہیں عمل مطلوب ہے ۔ بلکہ بلا شوق ہیں بوجہ زیادہ تعب کے زیادہ اجر ہے یہ نکتہ عمر بھر پلے میں باندھ لینے کے قابل ہے ۔ تہجد میں جی لگنے اور فرائض میں نہ لگنے کی وجہ سوال ۔ یہ شیطانی دھوکہ تو نہیں کہ فرائض میں جی کم لگے اور تہجد میں زیادہ لگے ۔ جواب ۔ اس میں دھوکہ نہیں طبعی بات ہے کہ جو کام اپنے ذمہ نہ ہو اس کو کر کے زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ ہم کو بڑی دولت نصیبت ہوئی کہ جو کام ہمارے ذمہ نہ تھا ۔ اس کی توفیق ہوئی اور جو کام ذمہ ہوتا ہے اس میں سمجھتا ہے کہ یہ تو کرنا ضروری ہے کونسا بڑا کمال کیا سو امور طبعیہ میں انسان معذور ہے ۔ رقت قلبی کا نہ ہونا قساوت قلبی نہیں حال ۔ قساوت قلبی کی یہ حالت ہے کہ ہر چند چاہتا ہوں کہ بدرگاہ رب العزت گریہ و زاری کروں مگر آنکھ سے ایک قطرہ نہیں نکلتا ۔ تحقیق ۔ یہ قساوت نہیں ۔ مبنی گریہ کا رقت قلبی ہے جو کہ غیر اختیاری ہے اور غیر اختیاری مطلوب نہیں قساوت یہ ہے کہ معصیت کے بعد افسوس نہ ہو ۔