ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 110 کی عبارت کے ساتھ گو کسی درجہ میں ہو اگر تفویض و تسلیم الی الحق ہو تو بے حد مقوی تاثیر ہے اور بدون کسی قدر سعی کے محض تفویض صورت تفویض ہے حقیقت تفویض نہیں حدیث میں ہے ۔ اعقل ثم توکل گر توکل می کنی درکار کن کسب کن پس تکیہ بر جبار کن ( 5 ) ناصحین و مخلصین کی تقریرات و مشاورات کے مقدمات میں ںظر نہ کیا کیجئے ان کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر تقلیدا قبول کر کے عمل شروع کر دیا کیجئے ۔ ( 6 ) ترتب ثمرہ کے لئے کوئی حد اور مدت ذہن میں معین نہ کیجئے ۔ آخرت تک میں ظاہر ہونے کے لئے جو کہ یقین ہے آمادہ رہئے ۔ ( 7 ) بلائے دیردر ماں نہ کہ بے در ماں میں صدہا حکمتیں ہیں جو عنقریب معلوم ہوں گی کہ کیسے کیسے اخلاق رذیلا کا اس سے علاج ہو گیا ہو گا ۔ ( 8 ) اور شرمانے کی کوئی بات نہیں ہے میں نے حقیر نہیں سمجھا ۔ آپ کی طبیعت ہلکی ہو گئی ہو گی مجھ کو دعاء کی طرف زیادہ توجہ ہو گئی ۔ اللہ تعالی سے امید ہے کہ اب دونوں طرف کی دعا سے جلدی کام بن جائے گا اب میں خاص توجہ و الحاح سے دعا شروع کروں گا اور کر بھی دی ۔ کوئے نو میدی مرد کا مید ہاست سوئے تاریکی مرد خورشید ہاست طریق نجات قلب پر معاصی حال ۔ قلب اس قدر گندہ ہے جس کی کچھ انتہا نہیں ہر وقت خیالات فاسدہ واہمہ جمع ہوتے ہیں ۔ ذکر پر نباہ نہیں ہوتا بد نگاہی کا مرض ستاتا ہے قلب بالکل مکدر رہتا ہے ۔ تحقیق ۔ یہ تمام حالات دو امر کی دلیل ہیں جو کہ اعلی مقاصد سے ہیں ۔ ایک اپنی بد حالی کا احساس ۔ دوسرا خوش حالی کی فکر ۔ چار امر کو اپنا معمول کر لو پھر عدم حرمان کا میرا ذمہ ( 1 ) ذکر کے متعلق جو معمول مقرر کرو گو قلیل ہو تو اس کو پورا کر لیا کرو خواہ دل سے یا بے دلی سے ( 2 ) معاصی سے نفس کو ہمت کے ساتھ روکو اور کوتاہی پر فورا استغفار کرو ۔ ( 3 ) ماضی و مستقبل کو مت سوچو نہ نفع کا قصد کرو ۔ ( 4 ) حالات سے وقتا فوقتا اطلاع دو گو وہ اطلاع کے قابل نہ ہوں ۔ ( 5 ) تمہارے اعضائے رئیسہ میں حرارت کا اثر ہے علاج طبی بھی ضرور کرو ۔ وظیفہ میں دل لگنے اور تلاوت میں نہ لگنے کی وجہ حال ۔ قرآن شریف کے پڑھنے میں دل نہیں لگتا اور وظیفہ میں لگتا ہے ۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔