ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 106 کی عبارت تحقیق ۔ اس کا سبب طبعی ہے ۔ یعنی ثقل حواس غلبہ نوم سے سو نہ یہ مذموم ہے نہ مضر البتہ اس ثقل سے جو اعمال واجبہ میں اختلال ہوتا ہے وہ واجب العلاج ہے اور علاج اس کا ہمت ہے ۔ طریق تصرف تحقیق ۔ بعض لوگ فطرۃ صالح المتصرف ہوتے ہیں گو صاحب نسبت نہ ہوں ۔ طریق تصرف کا صرف ہمت کا صرف کرنا ہے دوسرے کی بھی ہمت اگر قوی ہو تو اس سے روک سکتا ہے ۔ طریق تصرفات کی تحصیل صرف مشاقی پر ہے ۔ حضرت حاجی صاحبؒ نے جو ضیاء القلوب میں فرمایا ہے ۔ اما ایں تصرفات عجیبہ و غریبہ بدون حصول نسبت فنا و بقاء دست نمی ولقد و ایں معاملات از متو سطان سلوک اکثر واقع شوند ۔ اس ارشاد کے معنی یہ ہیں کہ یہ تصرفات عجیبہ و غریبہ نافع فی الدین ہونے کے موقوف ہیں حصول نسبت فناء بقاء پر یعنی مشاقی یا قوت فطریہ کے ساتھ ( نافع فی الدین ) بھی شرط ہے کیونکہ سالک کا اصل موضوع یہی نفع فی الدین ہے مراد بعض تصرفات عجیبہ و غریبہ سے وہی تصرفات ہیں جو سلوک کے متعلق ہیں جیسے توبہ بخشی وغیرہ ۔ اصل رونا دل کا ہے حال ۔ مجھے وعظ سن کر نہ رونا آتا ہے نہ ذکر وغیرہ میں خوف خدا ہوتا ہے ۔ یہ سنگ دلی تو نہیں تحقیق ۔ رونا دل کا مقصود ہے آںکھ کا نہیں وہ حاصل ہے دلیل اس کی یہ تاسف ہے ۔ حجاب نورانی اشد ہے حجاب ظلمانی سے حال ۔ انور اب رنگ برنگ کے نمایاں ہوتے ہیں ۔ اسم ذات کی کثرت سے لطائف میں سوزش ہوتی ہے ۔ اور کوئی شی مثل ہوا کہ بھر کر پھیل جاتی ہے ۔ تحقیق واقع میں انوار و آثار قابل التفات نہیں ۔ ان میں اکثر دخل اسباب طبعیہ کا ہوتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تب بھی ملکوت مثل ناسوت کے غیر قابل التفات ہے ۔ ناسوت اگر حجاب ظلمانی ہے تو ملکوت حجاب نورانی ۔ اور حجاب مطلقا حاجب ہے اور حاجب کا رفع واجب ہے ۔ مصلحت فی الکیفیات یکسوئی ہے البتہ ان کیفیات مذکورہ بالا میں ( اگر یہ ہوں کیونکہ ان کا ہونا لازم نہیں ) یہ مصلحت ضرور ہے کہ ان سے شاغل کو یک گو نہ یکسوئی ہوتی ہے ۔ جس سے اگر ذکر میں کام لے تو مفید ہے یعنی مذکور کی