ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 105 کی عبارت اس کا تحقق ظاہر ہے اور فرائض میں بوجہ عموم و تشارک کے یہ مفقود ہے ۔ اس لئے تہجد میں حظ و فرائض سے زیادہ ہو گا گو اجر و ثواب کا اعتقاد و فرائض ہی میں زیادہ ہے اور ایک قلق ہوتا ہے فوت حظ سے اور ایک ہوتا ہے فوت اجر سے ۔ اول فوت تہجد سے زیادہ ہو گا اور ثانی فوت فرض سے زیادہ ہو گا ۔ اور اول کا تحقق غلبہ طبیعت کا اثر ہے اور ثانی کا تحقق غلبہ عقل کا اور احد الامرین کا غلبہ غیر اختیاری ہے اس لئے اس پر ملامات نہیں ۔ نہ یہ کید نفس ہے مگر دلیل فساد ذوق کی ضرور ہے سلامت ذوق کی دعا ضروری ہے ۔تلف مال سے زیادہ فوت صحت و ولد کے غم و الم ہونے کا راز سوال ۔ اہل اللہ کو کیا مال و متاع کے بھی تلف ہو جانے سے مثل اولاد و صحت و تندرستی کے غم و الم ہوتا ہے ۔ جواب ۔ کچھ تو اثر طبعا ہوتا ہے ۔ مگر اولاد کے طبعی اثر کے برابر نہیں اور وجہ اس تفاوت کی کہ وہ بھی طبعی ہے ۔ یہ ہے کہ مال آلہ ہے دوسرے جوائج محبوبہ کا ۔ خود اس میں محبوبیت اور مقصودیت نہیں ۔ اور اولاد و صحت میں خود محبوبیت اور مقصودیت ہے پس ایسے تفاوت سے دونوں کے اثر میں بھی تفاوت ہے ۔ احوال و کیفیات کی حقیقت تحقیق ۔ احوال و کیفیات کو دوام نہیں ہوتا ان کو مقصود سمجھنے کا انجام مایوسی اور پریشانی نہیں ۔ اصل میں اعمال اختیاریہ اقدم ہیں سلوک کے ان سے چلنا چاہئے ۔ تحقیق ۔ اعمال کا فقدان شامت اعمال نہیں ۔ ہاں اعمال میں اگر اختلال ہے وہ بے شک قابل نظر ہے ۔ جس کی تلافی اختیاری ہے یعنی عود الی الاعمال سے ۔ خیال جہت فوق میں کوئی بات کفر نہیں حال ۔ بوقت توجہ الی الذکر بے اختیار خیال آسمان کی طرف جاتا ہے ۔ شعبہ کفر تو نہیں ۔ تحقیق ۔ حق تعالی جہت سے منزہ ہیں مگر تاہم ان کی خاص تجلیات کو عرش سے خاص خصوصیت ہے اس لئے فطری طور پر جہت فوق کی طرف خیال جاتا ہے جس کا منشاء واقعی ہے اس میں کوئی بات کفر کی نہیں ۔ غلبہ نوم سے ثقل حوال نہ مذموم ہے نہ مضر حال ۔ بعض وقت چار پائی پر لیٹا ہوا ہوتا ہوں ۔ اور اذان سنائی دیتی ہے لیکن بوجہ غلبہ نوم چار پائی پر سے اٹھنے کی ہمت نہیں پڑتی اور نہ اس وقت خوف خدا معلوم ہوتا ہے حتی کہ نماز بھی قضا ہو جاتی ہے