ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 104 کی عبارت احوال و کیفیات متفرقہ سالک کی پریشانی کی وجوہ حال ۔ حالت احقر یہ ہے کہ کئی بار روز و شب میں طبیعت نہایت پریشان ہوتی ہے اور حسرت و درد اندیشہ حرمان سے حزیں ہو کر مبتلا بآہ و بکا ہو جاتا ہوں ۔ تحقیق ۔ اس کا سبب غالبا مرکب ہے دو جز سے ۔ ایک سوء مزاج طبعی ۔ اس کا علاج طبیب سے ضروری ہے ۔ دوسرا طلب مقصود کے ساتھ مقصود کی تعیین میں غلطی اس کا علاج تربیت السالک کا مطالعہ ہے اگر یہ دونوں امر نہیں تو قبض طبعی ہے جو حالات رفیعہ ہے اور نفع میں بسط سے زیادہ ہے جو علم الہی میں مصلحت ہوتی ہے خود زائل ہو جاتا ہے اس کا ادب صبر و تفویض ہے ۔ حافظہ کے کمی کی شکایت حال ۔ وعظ دیکھتا ہوں ۔ لیکن حافظہ کم ہونے کی وجہ سے یاد کم رہتا ہے ۔ تحقیق ۔ مضر نہیں ۔ کیونکہ اثر باقی رہتا ہے ۔ دعا سے شرمانا کبھی غلبہ عبدیت سے ہوتا ہے اور اس کا علاج حال ۔ ایک ہفتہ سے یہ حالت ہے کہ بعد نماز و اذکار دعاء کرنے میں قبولیت کی درخواست کرتے ہوئے شرم و حجاب معلوم ہوتا ہے کہ میری زندگی و ذکر جو کہ سراسر کوتاہیوں سے بھری ہوئی ہے اس کو پیش کر کے قبولیت کی درخواست کرنا سخت بے حیائی ہے ۔ تحقیق ۔ اعلی درجہ کا حال عبدیت کا ہے ۔ مبارک ہو ۔ اس سے زیادہ ایک مقام عبدیت کا ہے وہ یہ کہ باوجود اس حال کے غلبہ کے امر کو مقدم رکھ کر قبولیت کی ضرور دعا کی جائے اور اس میں ایک گو نہ مجاہدہ بھی ہے مقتضائے طبع پر مقتضائے شرع کی تقدیم کی گئی ۔ وجہ زیادتی حظ و فلق از تہجد بہ نسبت فرض حال ۔ تہجد میں حظ بھی زیادہ آتا ہے فرائض سے اور اس کے فوت سے قلق بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ یہ کید نفس تو نہیں ۔ تحقیق ۔ طاعات پر دو اثر مرتب ہوتے ہیں ۔ ایک عاجل یعنی حظ اور امر ذوقی طبعی ہے ۔ دوسرا آجل یعنی ثواب اور یہ امر اعتقادی عقلی ہے اور حظ میں جدت اور امتیاز کو خاص دخل ہوتا ہے اور تہجد میں