ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 103 کی عبارت ہوئے ۔ اب جو تم اہل اللہ کے دروازے پر پڑے ہو تو کیا امید ہو سکتی ہے ۔ پھر خیال یہ ہوتا ہے کہ بلا کر محروم کرنا یہ اںصاف کے خلاف ہے ۔ اور بے انصافی سے اللہ تعالی پاک ہیں ۔ تحقیق ۔ اس کے بے انصافی نہ سمجھنا چاہئے محروم رکھنا ہی عین انصاف ہے اول تو وہ مالک پھر ہم میں ہزاروں کوتاہیاں جس سے محروم رہنا تعجب نہیں بجائے اس کے یہ سمجھے کہ وہ بڑے رحیم ہیں کوتاہیوں کو بھی معاف کرتے ہیں ۔ ان سے امید ہے ۔ قبض کے علاج کی ضرورت نہیں تحقیق ۔ قبض کے آداب و حقوق کی رعایت ضروری ہے ۔ خصوصا رضا و تفویض خلاصۃ الآداب ہے ۔ جو امر غیر اختیاری ہو سب محمود ہے قبض خود حالت نافہ ہے اس کا علاج ضروری نہیں اور جو علاج کے عنوان سے بزرگوں نے کچھ لکھا ہے کہ اس سے مقصود نہیں ہے کہ اس کا زالہ کیا جائے بلکہ مطلب یہ ہے کہ قبض کے وقت یہ عمل کیا جائے گویا یہ اعمال آداب و حقوق ہیں قبض کے پھر ان کے بعد خواہ قبض رہے یا جائے دونوں حالتوں میں رضا و تفویض چاہئے ۔ اس دستورالعمل سے اگر پریشانی ذات بھی رہے تو اس کا وصف نہ رہے گا ۔ مشاہدہ اس کا شاہد ہے ۔ قبض سے مقصود سالک کی اصلاح ہے تحقیق ۔ قبض کا سبب صرف عدم رضائے حق نہیں بلکہ بعض دفعہ حکمتوں کی وجہ سے قبض طاری کیا جاتا ہے ۔ سالک کے لئے یا سنبھالنے کے لئے بسط کو سلب کر لیا جاتا ہے تا کہ عجب و کبر میں مبتلا نہ ہو ۔ قبض کی حکمت تحقیق ۔ حدیث میں ہے کہ جب بندہ کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے کوئی خاص مرتبہ مقدر ہوتا ہے جس کو وہ اپنے عمل سے حاصل نہ کر سکتا تھا ۔ اللہ تعالی اس کو اس کے جسد اور اس کے اہل اور اس کے مال کو کسی بلا میں مبتلا کر دیتا ہے ۔ پھر وہ اس پر صبر کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اس مرتبہ کو حاصل کر لیتا ہے جو اللہ کی طرف سے مقدر ہوا تھا ۔ یہ حدیث قبض کی حالت میں نہایت تسلی بخش ہے ۔ تحقیق ۔ حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ قبض حقیقۃ لطف ہے بصورت قہر چونکہ قبضے آیدت اے راہرو آں صلاح تست آیس دل مشو