ملفوظات حکیم الامت جلد 21 - یونیکوڈ |
|
صفحہ نمبر 102 کی عبارت وقت وہ منافع نہ ہوں مگر بعد میں معلوم بھی ہو جاتے ہیں اور اگر معلوم نہ بھی ہوں تب بھی حاصل تو ہوتے ہیں ۔ اور حصول ہی مقصود ہے نہ کہ حصول کا علم ۔ چنانچہ غایت انکسار اور عبدیت کے آثار مثلا مشاہدہ عجز و ضعف اور غلبہ انکسار و افتقار و فنائے دعوی حالا کا ترتب ہوتا ہے جیسا کہ اکابر کا اہلام ہے انا عبد مکسرۃ قلوبھم فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ جز شکستہ می نگیرد فضل شاہ ہرگز ہریشان نہ ہوں ذکر جس قدر ہو سکے کر لیجئے ۔ اگرچہ کسی قدر تکلیف بھی کرنا پڑے اور اگرچہ اس میں دلچسپی بھی نہ ہو اور جس میں زیادہ کلفت ہو اس کو تخفیف کر دیجئے اور استغفار کی کثرت رکھیں اور جب تک یہ حالت رہے ایک بار یا دو بار ہفتہ میں اطلاع دیتے رہیں انشاء اللہ تعالی بہت جلد یہ حالت رفع ہو جائے گی سب کو یہ حالت پیش آتی ہے میں تو اس سے خوش ہوا کہ علامت ہے راہ قطع ہونے کی ۔ یہ سب راستے کی گھاٹیاں ہیں ۔ قبض کی حکمتیں اور اس وقت کا دستورالعمل تحقیق ۔ قبض سے عجب کا علاج ہوتا ہے عبدیت کی حقیقت کا اس میں مشاہدہ ہوتا ہے ۔ فنا اور تہدستی رای العین ہو جاتی ہے ۔ اختیاری کام کی پابندی ایسے ہی وقت دیکھنے کے قابل اور محل امتحان ہے ۔ اگر اس امتحان میں پاس ہو گیا اعلی درجہ کے نمبر کا مستحق ہو گا ۔ قبض کے اسباب تحقیق ۔ کبھی سوء اعمال کی وجہ سے سالک سے لذت فی الطاعات مفقود ہو جاتی ہے ۔ اور گاہے بوجہ فتور و کسل و ملال کے طبعا پیش آتی ہے ۔ اور کبھی بمصلحت امتحان کے یہ حق کا طالب ہے یا لذت کا من جا نب اللہ وارد کی جاتی ہے ۔ یہ سب اقسام قبض کے سالک کو پیش آتے ہیں ۔ قبض فی نفسہ مضر نہیں تحقیق ۔ قبض فی نفسہ تو مضر نہیں ۔ مگر جب اس کا سبب کوئی فعل قبیح ہو تو وہ قبض مضر ہے ۔ اس کی اصلاحی یہی ہے کہ اس فعل کا تدرک کیا جائے ۔قبض سے جو مایوسی ہو اس کا علاج حال ۔ ایک دن قبض کی حالت میں یہ بات سمجھ میں آئی کہ تمہارے ارادے تو کبھی پورے نہیں ۔