Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2003

اكستان

51 - 66
لہلہاتے سبزہ زارہوں صاف ستھری درسگاہیں ہوں اور سلیقہ سے بنا ہوا دارالاقامہ ہو اور اساتذہ کے مکانات وآراستہ دفاتر ہوں اور پھر طلبا کی فوج ظفرموج ہو اور ہر وقت ہر گھڑی جامعہ مدنیہ جدید میں قال اللّٰہ وقال رسول  کی صدا گونج رہی ہو انشاء اللہ بہت جلد آپ کی یہ خواہش پوری ہوگی ۔لیکن جب یہ سب کچھ مکمل ہوجائے گا تو دیکھنے والوں کے سامنے صرف حال ہو گا ماضی نہیں ہوگا وہ یہ جاننے سے قاصر ہوں گے کہ آج جہاں آبادی ہے کل ویرانہ تھا جہاں شہرِ علم آباد ہے وہاں وحشت افزا جنگل تھا ان کو یہ معلوم نہیں کہ جامعہ کا شباب دیکھنے کے لیے مہتمم صاحب کو اپنا شباب قربان کرنا پڑا ،اِدھرجوانی آتی گئی اُدھر بڑھاپا سر اُٹھاتا گیا ۔ کیونکہ مولانا موصوف کے سامنے یہ تھا کہ کوئی مکتب درخت کے سائے میں شروع ہوا (دارالعلوم دیوبند )اور کوئی ایسے جھونپڑے میں جہاں سانپوں اور بچھوؤں کا بسیرا تھا کہیں سامانِ خورد ونوش کمیاب تھا اور کہیں وضو کے لیے بھی پانی میّسر نہیں تھا اور کسی مہتمم کو طلبہ کا راشن مہیا کرنے کے لیے مقروض ہونا پڑا ۔اس جدید جامعہ جیسے دوسرے سینکڑوں مدارس اور ان کے بانیوں کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ انہیں کیسے کیسے ہمت شکن اورصبر آزما حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
	اگر اللہ کی رضا اور خدمتِ دین جیسا عظیم مقصد سامنے نہ ہوتا تو مولانا موصوف ابتدا ہی سے ہمت ہار بیٹھتے مگر چونکہ اللہ نے تا قیامت علومِ دینیہ کی بقاء کا فیصلہ کررکھا ہے اس لیے آپ کو ہمت عطا فرمائی کہ جامعہ کی تعمیر وترقی اور طلبہ کی فلاح وبہبود بہتر سے بہتر تعلیم و تربیت کی ایسی فکر اور درد پیدا کیا کہ وہ ہر وقت مہمانانِ رسول  ۖ  کی جسمانی ورُوحانی تربیت کے لیے سرگرم رہتے ہیں ۔کیونکہ بڑے حضرت اقدس نوراللہ مرقدہ نے مدرسہ کی بنیاد ایمان اور رُوحانیت پر رکھی تھی۔ اور اس لیے حضرت مہتمم صاحب مدظلہ بھی اپنے شیخ ومرشد کے نقشِ قدم پرچل رہے ہیں ۔میری دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کے علم و عمل اور عمر میں برکت عطا فرمائے محنت کو قبول فرمائے(آمین ثم آمین )۔میری مخیر حضرات سے التماس ہے کہ جامعہ مدنیہ جدید ،مسجد حامد اور خانقاہ حامدیہ میں اپنا مال خرچ کرکے اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے صدقہ جاریہ جاری وساری کریں ۔کیونکہ یہ دین کا کام ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی نصرت تو فرمانی ہی ہے اور اگر آپ حصہ ملادیں گے تو آپ کے لیے یہ سعادت ہوگی۔ 
	نوٹ !  جامعہ مدنیہ جدید میں امسال دورہ حلِ عبارت ہوا ہے تو راقم بھی اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے حاضر ہوا تو پھر جامعہ کے حالات کا جائزہ لیا تو حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہ کے اخلاص کو دیکھ کر دل نے مجبور کیا کہ چندٹوٹے پھوٹے الفاظ لکھ کر جامعہ اور جملہ معاونین اور خصوصاً بڑے حضرت  اور مولانا سیّد محمود میاں صاحب مدظلہ اور استاذیم مولانا محمد حسن صاحب مدظلہ سے اپنی محبت کا اظہار کرے ،اللہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔(آمین ثم آمین) راقم جملہ طلباء اورخصوصاً محمد خبیب نذیر ،محمد شریف، محمد توقیر کا شکر گزار ہے جن کی دُعائوں کی بدولت یہ الفاظ لکھنے کی توفیق ملی ہے۔٭٭٭


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
85 اس شمارے میں 3 1
86 حرف آغاز 4 1
87 درس حدیث 6 1
88 حضر ت عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نبی علیہ السلام 6 87
89 مزید خصوصیت : 6 87
90 حضرت عمر کا کوفہ کے لیے ان کو منتخب فرمانا : 7 87
91 طلباء کے فرائض 8 1
92 طلبا کا پہلا فرض : 8 91
93 طلبا کادوسرا فرض : 9 91
94 بقیہ : درس حدیث 10 87
95 الوداعی خطاب 11 1
96 جنت کیاہے ؟ : 12 95
97 جہنم کیا ہے : 12 95
98 علماء اور طلباء پر کیا لازم ہے : 12 95
99 تفصیلاً علم سیکھنا فرضِ کفایہ ہے : 13 95
100 مثال سے ضاحت : 13 95
101 دُنیاوی کاموں سے اسلام نہیںروکتا : 13 95
102 عالم دین کی خدمت کو نہیں چھوڑ سکتا : 14 95
103 فتنہ کا دور، دجال کی آمد : 14 95
104 پورے عالم کے اعتبار سے صدیاں دنوں کی طرح ہوتی ہیں : 14 95
105 دجال کی آمد سے پہلے چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے : 14 95
106 دجالی قوتیں نبی علیہ السلام کی سیاسی اور اقتدارسے متعلق پیشین گوئیوں سے خوب آگاہ ہیں : 15 95
107 خراسان ہمارا پڑوس اور اس کی اہمیت : 15 95
108 ''این جی او ''دجالی فتنہ ، غریب مسلمان ان کا پہلا نشانہ : 15 95
109 فقرکبھی کفر کا سبب بن جاتاہے : 16 95
110 اب پچھلے لوگوں جیسا ایمان مضبوط نہیں ہے : 16 95
111 کفر کا طریقۂ واردات : 17 95
112 ان کے ایمان بچانے کی ترکیب : 17 95
113 دجالی فتنہ کا ایک واقعہ : 18 95
114 سندھ اور پنجاب : 18 95
115 غریبوں کی مدد - نبیوں کی ترجیحات : 19 95
116 نبی علیہ السلام کی معاشرتی فلاحی سرگرمیاں : 19 95
117 آپ حضرات نبی علیہ السلام کے وارث ہیں : 20 95
118 عبرتناک واقعہ : 21 95
119 ایک اور واقعہ : 22 95
120 آغا خانی اور شمالی علاقہ جات : 22 95
121 ایک اور ناپاک مقصد : 23 95
122 علماء اور طلباء کے اہم اہداف : 23 95
123 ذکر فکر کی طرف توجہ اور ا س کا فائدہ : 24 95
124 مثال سے و ضاحت : 24 95
125 ایک طالب علم کا اشکال اور اُس کا جواب : 24 95
126 بڑے حضرت کی ہر طالب علم اور مرید کو نصیحت : 28 95
127 حج 29 1
128 مفہوم اور فرضیت : 29 127
129 ١۔ احرام : 30 127
130 ٢۔ تلبیہ : 30 127
131 ٣۔ طواف : 31 127
132 ٤۔ حجرِاسود کا بوسہ : 31 127
133 ٥۔ سعی بین ا لصفّاوالمروہ : 31 127
134 ٦۔ وقوفِ عرفہ : 32 127
135 ٧۔ قیامِ مزدلفہ : 32 127
136 ٨۔ منٰی کا قیام اور قربانی : 32 127
137 ٩۔ حلق رأس : 33 127
138 ١٠۔ رمی جمار : 33 127
139 حج کے مصالح 33 127
140 انفرادی مصالح 34 127
141 ا۔ احساسِ عبدیت : 34 127
142 ٢۔ اظہارِمحبوبیت : 34 127
143 ٣۔ جہاد ِزندگی کی تربیت : 35 127
144 ٤۔ ماضی سے وابستگی : 36 127
145 اجتماعی مصالح 37 127
146 ١۔ اخوت کے جذبات کا پیدا ہونا : 37 127
147 ٢۔ غیر فطری عدمِ مساوات کا خاتمہ : 38 127
148 سیاسی مصالح 38 127
149 ١۔ احساسِ مرکزیت : 38 127
150 خالص دینی اور اُخروی مصالح 39 127
151 ١۔ یادِ آخرت : 39 127
152 ٢۔ گناہوں کی معافی : 39 127
153 ٣۔ حج کابدلہ جنت ہے : 40 127
154 ٤۔ حج کی جامعیت : 40 127
155 انتقال پر ملال 41 1
156 جیل سے حضرت اقدس کے نام ایک خط 42 155
157 ١٩٨٢ء میں ساہیوال جیل میں راقم نے ملاقات کی ۔اس موقع پر ایک خط 46 155
158 میجر جنرل (ریٹائرڈ) تجمل حسین 47 155
159 میجر جنرل ریٹائرڈتجمل حسین 48 155
160 سیّد العلماء والطلبائ 50 1
161 اہم اعلان 53 1
162 ولادتِ مسیح علیہ السلام اور ٢٥دسمبرتحقیقی جائزہ 55 1
163 دینی مسائل( جماعت کے احکام ) 60 1
164 جماعت ِثانیہ : 60 163
165 امامت کے فرائض : 61 163
166 عالمی خبریں 64 1
167 مسلم حکمران اور مقامِ عبرت 64 166
168 تنگ نظری کی انتہائ 64 166
Flag Counter