ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2003 |
اكستان |
|
لہلہاتے سبزہ زارہوں صاف ستھری درسگاہیں ہوں اور سلیقہ سے بنا ہوا دارالاقامہ ہو اور اساتذہ کے مکانات وآراستہ دفاتر ہوں اور پھر طلبا کی فوج ظفرموج ہو اور ہر وقت ہر گھڑی جامعہ مدنیہ جدید میں قال اللّٰہ وقال رسول کی صدا گونج رہی ہو انشاء اللہ بہت جلد آپ کی یہ خواہش پوری ہوگی ۔لیکن جب یہ سب کچھ مکمل ہوجائے گا تو دیکھنے والوں کے سامنے صرف حال ہو گا ماضی نہیں ہوگا وہ یہ جاننے سے قاصر ہوں گے کہ آج جہاں آبادی ہے کل ویرانہ تھا جہاں شہرِ علم آباد ہے وہاں وحشت افزا جنگل تھا ان کو یہ معلوم نہیں کہ جامعہ کا شباب دیکھنے کے لیے مہتمم صاحب کو اپنا شباب قربان کرنا پڑا ،اِدھرجوانی آتی گئی اُدھر بڑھاپا سر اُٹھاتا گیا ۔ کیونکہ مولانا موصوف کے سامنے یہ تھا کہ کوئی مکتب درخت کے سائے میں شروع ہوا (دارالعلوم دیوبند )اور کوئی ایسے جھونپڑے میں جہاں سانپوں اور بچھوؤں کا بسیرا تھا کہیں سامانِ خورد ونوش کمیاب تھا اور کہیں وضو کے لیے بھی پانی میّسر نہیں تھا اور کسی مہتمم کو طلبہ کا راشن مہیا کرنے کے لیے مقروض ہونا پڑا ۔اس جدید جامعہ جیسے دوسرے سینکڑوں مدارس اور ان کے بانیوں کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ انہیں کیسے کیسے ہمت شکن اورصبر آزما حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر اللہ کی رضا اور خدمتِ دین جیسا عظیم مقصد سامنے نہ ہوتا تو مولانا موصوف ابتدا ہی سے ہمت ہار بیٹھتے مگر چونکہ اللہ نے تا قیامت علومِ دینیہ کی بقاء کا فیصلہ کررکھا ہے اس لیے آپ کو ہمت عطا فرمائی کہ جامعہ کی تعمیر وترقی اور طلبہ کی فلاح وبہبود بہتر سے بہتر تعلیم و تربیت کی ایسی فکر اور درد پیدا کیا کہ وہ ہر وقت مہمانانِ رسول ۖ کی جسمانی ورُوحانی تربیت کے لیے سرگرم رہتے ہیں ۔کیونکہ بڑے حضرت اقدس نوراللہ مرقدہ نے مدرسہ کی بنیاد ایمان اور رُوحانیت پر رکھی تھی۔ اور اس لیے حضرت مہتمم صاحب مدظلہ بھی اپنے شیخ ومرشد کے نقشِ قدم پرچل رہے ہیں ۔میری دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کے علم و عمل اور عمر میں برکت عطا فرمائے محنت کو قبول فرمائے(آمین ثم آمین )۔میری مخیر حضرات سے التماس ہے کہ جامعہ مدنیہ جدید ،مسجد حامد اور خانقاہ حامدیہ میں اپنا مال خرچ کرکے اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے صدقہ جاریہ جاری وساری کریں ۔کیونکہ یہ دین کا کام ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی نصرت تو فرمانی ہی ہے اور اگر آپ حصہ ملادیں گے تو آپ کے لیے یہ سعادت ہوگی۔ نوٹ ! جامعہ مدنیہ جدید میں امسال دورہ حلِ عبارت ہوا ہے تو راقم بھی اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے حاضر ہوا تو پھر جامعہ کے حالات کا جائزہ لیا تو حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب مدظلہ کے اخلاص کو دیکھ کر دل نے مجبور کیا کہ چندٹوٹے پھوٹے الفاظ لکھ کر جامعہ اور جملہ معاونین اور خصوصاً بڑے حضرت اور مولانا سیّد محمود میاں صاحب مدظلہ اور استاذیم مولانا محمد حسن صاحب مدظلہ سے اپنی محبت کا اظہار کرے ،اللہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔(آمین ثم آمین) راقم جملہ طلباء اورخصوصاً محمد خبیب نذیر ،محمد شریف، محمد توقیر کا شکر گزار ہے جن کی دُعائوں کی بدولت یہ الفاظ لکھنے کی توفیق ملی ہے۔٭٭٭