زبدۃ:
یہ واقعہ غزوہ خندق کا ہے جب دشمن نے مدینہ کو گھیر لیا تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدینہ کے باہر خندق کھودنا شروع کردی تھی۔ اس وقت کا یہ عالم تھاجس کا ذکر حدیث بالا میں ہوا تھا۔ مگر اس روایت میں بظاہر ایک اشکال یہ ہےکہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی روز بغیر سحری و افطاری کے روزے رکھتے تھے۔جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس طرح روزے رکھنے شروع کیےتو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا اور فرمایا:تم میں مجھ جیسا کون ہے؟ مجھے تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ سوال یہہےکہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو کھلاتا اور پلاتا ہے تو پھر پیٹ پر بھوک کی وجہ سے پتھر باندھنے کا کیا مطلب؟ محدثین فرماتے ہیں کہ بھوک پیاس نہ لگنے کی صفت حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اختیاری تھی۔ آپ جب چاہتے اس سے فائدہ اٹھا لیتے تھے اور مسلسل روزے رکھتے مگر اس موقع پر آپ نے اس مخصوص صفت سے فائدہ نہ اٹھایا تو بھوک پیاس کی وجہ سےپیٹ پر پتھر باندھنےپڑے۔
اس خصوصیت سے فائدہ اس وجہ سے نہ اٹھایاکہ امت کو تعلیم ہو اور امت کے سامنے نمونہ پیش ہو سکے اور اس وجہ سے بھی کہ آپ کے ساتھی بھوک وپیاس میں حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ شریک پاکرگھبرائیںنہیں بلکہ انکی حوصلہ افزائی ہو۔
زبدۃ:
اہلِ مدینہ کی عادت تھی کہ بھوک کی شدت کے وقت پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے تاکہ اس کی سختی کی وجہ سےچلنے پھرنے میں کمزوری نہ ہو۔کیونکہ پیٹ کے خالی ہونے کی صورت میں پیٹ کو کسی کپڑے سے باندھ لینے کی وجہ سےضعف اور بے