زبدۃ:
عام امتیوں کو بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے کا آدھا ثواب ملتاہےلیکن حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نفل پڑھنے کا بھی اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا کہ آپ کو کھڑے ہو کر نفل پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔ بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نوافل پڑھنا ضعف اور کمزوری کی وجہ سے ہوتا تھا یا امت کو یہ تعلیم دینے کے لیے کہ بیٹھ کر پڑھنا بھی جائز ہے،نماز کے لیے طاقت سے زیادہ مشقت برداشت کرنے کی ضرورتنہیں ہے۔ اگر بڑھاپے یا کسی عارضہ کی وجہ سے آدمی زیادہ دیر کھڑا نہیں ہوسکتا تو بیٹھ کر بھی نماز پڑھ سکتا ہے مگر نفل نماز بغیر کسی عذر کے بھی بیٹھ کر پڑھ سکتا ہےبلکہ بیٹھا ہوا درمیان میں کھڑا ہوسکتا ہےاور کھڑا ہوا درمیان میں بیٹھ کر نفل نماز مکمل کرسکتا ہے۔
حدیث: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعت ظہر سے پہلے، دو رکعت ظہر کے بعد، دو مغرب کے بعد اپنے گھر میں اور دورکعت عشاء کے بعد بھی اپنے گھر میں پڑھی ہیں۔
زبدۃ:
دن رات میں فرائض کے علاوہ بارہ رکعت سنت مؤکدہ ہیں؛ دو رکعت نماز فجر سے پہلے،چار رکعت ظہر سے پہلے اور دورکعت ظہر کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، دو رکعت عشاء کے بعد۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:جو شخص دن رات میں بارہ رکعات پابندی کے ساتھ ادا کرے حق تعالیٰ شانہ اسکے لیے جنت میں گھر بنادیتے ہیں۔
شمائل ترمذی میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں اگرچہ ظہر کی نمازسے پہلے دورکعت کا ذکر ہےمگر حضرت ام المؤمنین (میری امی) عائشہ اور (میری امی) ام حبیبہ رضی اللہ عنہما کی روایات اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت میں ظہر