پڑھتے تھے۔ حضرت ام المؤمنین(میری امی ) عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں ہے کہحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتیں پڑھنے کا تھا، آٹھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔ حضرت ام المؤمنین (میری امی) عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کی ایک روایت ہےکہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعت پڑھتے تھے۔ ایک روایت کی تصریح کے مطابق چھ رکعت تہجد اور تین رکعت پڑھتے تھے یعنی چھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔ حضرت ام المؤمنین میری امی عائشہ رضی اللہ عنہاہی کی ایک روایت میں ہےکہ اگر کسی عذر کی وجہ سے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد ادا نہ فرماسکتے تو دن کو بارہ رکعتیں ادا فرماتے تھے۔ نیز مختلف روایات سے دو رکعت تہجد اور تین رکعت وتر، چار رکعت تہجد اور تین رکعت وتر، چھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر،آٹھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر، دس رکعت تہجد اور تین رکعت وتر بھی ثابت ہیں۔
زبدۃ:
وتروں کی ادائیگی میں احناف کا مذہب یہ ہے کہ تین وتر ایک سلام کے ساتھ ادا کرنے چاہییں جبکہ حضرت امام شافعی علیہ الرحمۃ کے نزدیک تین وتر دوسلاموں کے ساتھ ادا کرنے چاہییں۔ امام مالک علیہ الرحمۃ دونوں طریقوں سے اجازت دیتے ہیں۔ اس لیے ہم تو احناف کے پابند ہیں۔ البتہ اس مسئلے میں جھگڑنا نہیں چاہیے کیونکہ دوسرا مسلک بھی ائمہ کا ہےاور بعض روایات میں وتروں کے بعد بھی دورکعت بیٹھ کر ادا فرمانے کا ذکر آیا ہے۔ اس حساب سے تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سترہ رکعات ثابت ہو گئیں؛ دو رکعت تحیۃ الوضوء، آٹھ رکعت تہجد، تین رکعت وتر، دو رکعت بیٹھ کر نفل اوردو رکعت فجر کی سنتیں۔
حدیث: