اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لیے جانور طلب کیاتوآپ نے فرمایا:تمہیں اونٹنی کابچہ دیں گے۔ اس شخص نے عرض کیاکہ حضرت! میں اونٹنی کابچہ لےکرکیاکروں گا؟ توحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑااونٹ بھی تواونٹنی کابچہ ہی ہوتاہے۔
زبدۃ: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تویہ بات مزاح کے طور پرارشاد فرمائی تھی مگر محدثین فرماتے ہیں کہ اس میں اس طرف اشارہ بھی نکلتاہےکہ آدمی دوسرے کی بات خوب غوروفکرسےسنے، جلدبازی نہ کرے۔
حدیث: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص دیہات کارہنےوالاتھاجس کانام ”زاہر“تھا،وہ جب حضرت پاک صلی اللہ علیہوسلم کی خدمت میں حاضر ہوتاتودیہات کاتحفہ پیش کرتااور جب وہ مدینہ منورہ سے واپس جانےلگتاتوحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس کوکوئی تحفہ عنایت فرما دیتے۔ ایک مرتبہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ زاہرہمارادیہات ہےاور ہم اس کے شہر ہیں۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت فرماتے تھے۔ یہ صاحب کچھ زیادہ خوش شکل نہیں تھے۔ایک دفعہ وہ اپناسامان فروخت کررہاتھاکہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےپیچھے سے آکرکولی بھرلی (یعنی اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیااور اس کواپنے ساتھ ملالیا) تاکہ وہ آپ کونہ دیکھ سکے۔تووہ کہنے لگا: کون ہو؟مجھے چھوڑدو۔ مگر جب اس نےپہچان لیاتواپنی کمرکوبڑے اہتمام سےحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کےسینہ مبارک کےساتھ ملنےلگا۔پھر حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس غلام کوکون خریدےگا؟ اس نےکہا: حضرت! میں توکھوٹاغلام ہوں۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تواللہ نزدیک توکھوٹانہیں ہےیاحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایاکہ تواللہ کےہاں بڑاقیمتی ہے۔
زبدۃ: