اس مشکیزےسے کھڑے کھڑےپانی نوش فرمایا۔پھر میں نے اٹھ کرمشکیزے کامنہ کاٹ لیا۔
زبدۃ:
1: پانی پینے میں سنت طریقہ بیٹھ کر پینا ہےمگر کسیعذر کی بنا پرکھڑے ہوکر بھی پیا جاسکتاہےمگر زمزم کاپانی قبلہ رو کھڑے ہو کر اور پیٹ بھر کر پینا افضل اور سنت ہے۔ زمزم پینے کےبعدحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعابھی ثابت ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَافِعًاوَّرِزْقًاوَّاسِعًاوَّشِفَاءًمِّنْ کُلِّ دَآءٍ․
اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والاعلم، وسعت والارزق اور تمام بیماریوں سے شفاء مانگتا ہوں۔
وضوء سے بچے ہوئے پانی کوبھی کھڑے ہو کرپینامستحب ہے۔علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے بعض بزرگوں سےوضوء سے بچے ہوئےپانی کےپینےکوبیماریوں سےشفاءحاصل کرنے کے لیے مجرب علاج نقل کیا ہے۔
پانی تین سانس میں پیناچاہیے۔ حدیث کے مطابق یہ خوب سیراب کرتا ہےاور خوب ہضم ہوتاہےاور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی جوروایت ہےکہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم پینےکےدرمیان دوسانس لیتے تھے۔تواس کامطلب یہ ہےکہ درمیان میں دووقفے فرماتے تھےجسکےسانس تین ہی بنتے ہیں۔ ایک سانس میں پانی نہ پیناچاہیے۔یہ خلاف سنت ہونےکے علاوہ کئی بیماریوں کےپیداہونےکاباعث ہےبالخصوص ضعفِ اعصاب کاسبب بنتاہےاور معدہ اور جگر کے لیے نقصان کاسبب ہے۔
حدیث: ایک روایت حضرت کبشہ رضی اللہ عنہاسے ہے کہ ان کے گھر میںاور دوسری روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ